تبلیغِ ہدایت — Page 34
پھر ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- يُعِيْسَى إِنِّي مُتَوَفِّيَكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهَّرَكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ( سوره آل عمران ع۶) یعنی ”اے عیسی میں ہی تجھے وفات دونگا اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور کفار کے اعتراضات سے تجھے پاک کرونگا۔اور تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر قیامت تک غلبہ بخشوں گا“۔آب دیکھ لو اس آیت میں صاف مذکور ہے کہ مسیح کی وفات مسیح کے رفع سے پہلے ہوگی۔کیونکہ مُتَوَفِنگ کو رَافِعَگ سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔یعنی پہلے وفات ہوگی اور پھر رفع ہوگا اور ظاہر ہے کہ وفات کے بعد کا رفع روحانی ہوا کرتا ہے نہ کہ جسمانی اور اگر کہو کہ اس جگہ تقدیم تاخیر ہے یعنی آیت کے الفاظ آگے پیچھے ہو گئے ہیں تو اول تو کلام الہی میں بلاوجہ تقدیم تاخیر کا فتویٰ جاری کر دینا یہودیوں کی سی تحریف سے کم نہیں۔تقدیم تاخیر کے لئے کوئی بین دلیل ہونی چاہئے۔دوسرے اس آیت کا سیاق وسباق ایسا ہے کہ وہ کسی تقدیم تاخیر کا متحمل ہی نہیں ہوسکتا۔یعنی مُتَوَفِنگ کا لفظ اس جگہ سے اُٹھایا جائے تو پھر اس آیت میں اُسے کسی اور جگہ رکھ کر معنے درست نہیں ہوتے۔پس لامحالہ قرآن شریف کی اصلی ترتیب کو قبول کر کے وفات کو رفع سے قبل ماننا پڑے گا۔وہوالمراد۔پھر ایک اور جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:- إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونَى وَأَمَّى الهَيْنِ مِنْ دُونِ اللهِ ط قَالَ سُبْحَنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَالَيْسَ لِي بحق ط إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ طَ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ط إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِيْ بِهِ آنِ 34