تبلیغِ ہدایت — Page 33
اس آیت کے معنے اور بھی زیادہ واضح ہو جاتے ہیں جب ہم اسے ایک مشہور تاریخی واقعہ کی روشنی میں دیکھتے ہیں صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو حضرت عمرؓ اور بعض دوسرے صحابہ بزعم خود یہ خیال کرتے ہوئے کہ ابھی بعض کام ہونے والے باقی رہتے ہیں آپ کو ابھی تک زندہ ہی سمجھتے تھے، بلکہ حضرت عمرؓ تو اپنے اس خیال پر اس قدر جمے ہوئے تھے کہ انہوں نے نیام سے تلوار کھینچ لی اور کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ رسول اللہ فوت ہو گئے ہیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔اس وقت حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو پکار کر کہا علی رسلک اتها الحالف یعنی ” اے قسم کھانے والے ذرا صبر کر۔پھر آپ نے سب صحابہ کو مخاطب کر کے تقریر شروع فرمائی اور یہی آیت پڑھی کہ مَا مُحمد إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ الخ یعنی "محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف خدا کے ایک رسول ہیں ان سے پہلے جتنے رسول گزرے ہیں وہ سب فوت ہو چکے ہیں تو کیا اگر آپ بھی وفات پا جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گئے۔روایت آتی ہے کہ اس آیت کے سننے سے حضرت عمرؓ اس قدر متاثر ہوئے کہ لڑکھڑا کر زمین پر گر گئے۔کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ ان کا پیارا آقا بھی چونکہ صرف اللہ کا ایک رسول تھا پس جس طرح اس سے پہلے تمام رسول فوت ہو گئے اسی طرح ضرور تھا کہ وہ بھی اس اہل دروازہ سے گذرتا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی گذشتہ نبی اس وقت تک زندہ ہوتا تو حضرت ابوبکر کے اس استدلال پر کہ چونکہ تمام گزشتہ نبی وفات پاچکے ہیں اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی فوت ہونا تھا صحابہ کرام ضرور اعتراض کرتے خاص کر حضرت عمر اور ان کے ہم خیال تو ضرور بول اُٹھتے کہ یہ استدلال درست نہیں۔مگر سب صحابہ نے حضرت ابو بکر کے ساتھ اتفاق کر کے اس استدلال پر مہر لگادی۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس مسئلہ پر سب سے پہلا اجماع صحابہ کرام کا ہوا وہ یہی تھا کہ تمام گذشتہ انبیاء جن میں حضرت مسیح ناصری بھی شامل ہیں وفات پاچکے ہیں۔خوب غور کرو کہ اگر گذشتہ انبیاء میں سے ایک نبی بھی زندہ تصور کیا جاوے تو حضرت ابوبکر کا یہ استدلال جس پر صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلا اجماع کیا باطل ٹھہرتا ہے۔پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح جو خدا کے نبیوں میں سے ایک نبی تھے وفات پاچکے ہیں۔33