تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 21 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 21

انہ آنے دے جو اس کی بصارت کو کمزور کرنے والے ہوں اور پھر دلی جوش وخروش کے ساتھ تقویٰ اللہ کو مدنظر رکھ کر مدعی کے دعاوی پر ان کے مختلف پہلوؤں کو خیال میں رکھتے ہوئے نظر ڈالے۔اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں اور عقل اور نقل دونوں بے کار ہیں۔روحانی طریق یہ دو تو جسمانی طریق ہیں۔مگر ایک اور طریق بھی ہے جو روحانی ہے اور وہ دُعا ہے مگر افسوس ہے کہ دُنیا نے اس نعمت کو شناخت نہیں کیا اور نہ ہی اس کی حقیقت کو سمجھا ہے ورنہ اگر دیکھتے تو دُعا ایک ایسا دروازہ ہے جس سے گذر کر انسان خدا کے دربار میں پہنچتا ہے پس چاہئے کہ ہر ضرورت کے وقت انسان اسی دروازے کو کھٹکھٹائے اور ہر مشکل میں اسی کی طرف رُخ کرے۔جو کھٹکھٹائے گا اس کے لئے کھولا جائے گا اور جو مانگے گا اس کو ملے گا۔خدا کے گھر کا سوالی خالی ہاتھ نہیں جاتا۔خصوصاً اس معاملہ میں جبکہ اللہ تعالیٰ کا یہ عین منشا ہے کہ دنیا ضلالت کے گڑھے سے نکل کر ہدایت ونور کی بلند چٹان پر قائم ہو جاوے۔وہ بندہ کی ضرور سنے گا اور محبت وشفقت کے ساتھ اس کی دستگیری کے لئے ہاتھ بڑھائے گا۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے معاملہ میں تحقیقات کرے اُسے چاہئے کہ علاوہ ان دو منقولی اور معقولی طریقوں کو اختیار کرنے کے جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اپنے آپ کو کلیۃ اللہ کے حضور ڈال دے اور اس سے دُعا کرے کہ اے رحیم و کریم خدا میری نظر کمزور ہے تو مجھے بینائی بخش تا اس معاملہ میں جو بات حق ہے میں اسے دیکھ لوں۔اے عالم الغیب خدا اگر اس مدعی کا دعوی سچا ہے تو تو مجھے توفیق دے کہ میں اس پر ایمان لاؤں اور تیرے ان فضلوں کا وارث بنوں جو تیرے مرسلوں کی جماعتوں پر نازل ہوتے ہیں اور مجھے اس کے انکار کی شقاوت سے محفوظ رکھ۔اور اے میرے مولی اگر یہ گمراہی کی طرف بلاتا ہے تو تو اپنے فضل سے مجھے اس کے شر سے محفوظ رکھ۔اے میرے مالک و آقا میں تیرے حکم کے ماتحت اس معاملہ میں تحقیقات شروع کرتا ہوں مگر میں کمزور ہوں ممکن ہے۔میں ٹھوکر کھاؤں۔پس تو اپنے فضل سے میری 21