تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 19 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 19

ہو گئی ہو یا کوئی کمزور روایت محدثین نے صحیح سمجھ لی ہو اور کوئی صحیح روایت کمزور قرار دے دی ہو اور ان کی بناء پر ہم بھی ٹھوکر کھا جائیں۔یہ سب کچھ ممکن ہے۔مگر یہ ناممکن ہے کہ قرآن غلطی کرے اور قرآن کی سچی اتباع کر کے کوئی شخص ضلالت میں مبتلا ہو جائے۔یہ وہ نور ہے جس کے سامنے کوئی ظلمت نہیں ٹھہر سکتی۔یہ وہ روشنی ہے جس سے اندھیرا کوسوں دور بھاگتا ہے۔یہ وہ ہدایت ہے جس کے پاس تک ضلالت نہیں پھٹک سکتی۔سچ ہے کہ :- لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ - تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَميد (سورة حم السجده ع ۵) یعنی ” نہ تو قرآن کے سامنے سے باطل آسکتا ہے نہ اس کے پیچھے سے کیونکہ یہ حکیم اور حمید خدا کی طرف سے اُترا ہے۔“ معقولی تحقیق کا طریق دوسرا طریق تحقیق کا معقولی ہے۔یعنی کسی سوال کے متعلق عقلی طور پر غور کرنا اور اس کے حسن و فتح پر معقول پیرا یہ میں نظر ڈالنا۔اس طریق میں نقل سے کوئی بحث نہیں ہوتی۔بلکہ خود مدعی کی ذات اور اس کے حالات اور اس کے زمانہ کے حالات پر عقلی طور پر نظر ڈالنا ہوتا ہے اور اس بات سے سروکار نہیں ہوتا کہ اس کے متعلق پہلے صحیفوں میں کیا کہا گیا ہے اور کیا نہیں کہا گیا۔مگر یہ یا درکھنا چاہئے کہ معقولی طریق منقولی طریق کی نسبت زیادہ نازک ہے اور محقق پر زیادہ ذمہ داری ڈالتا ہے کیونکہ اول تو اس میں اختلاف کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔کیونکہ بعض اوقات ایک ہی چیز کو ایک شخص کی عقل اچھا قرار دیتی ہے تو دوسرے کی عقل اسے نفرت اور کراہت کی نظر سے دیکھتی ہے اور طرفہ یہ کہ دونوں شخصوں کو اپنی رائے کی صحت پر اصرار ہوتا ہے اور گو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک شخص نے ٹھیک طور پر غور نہیں کیا یا بعض ضرر رساں عناصر کو اپنے دل و دماغ پر مؤثر ہونے دیا جس سے اس کی بصارت میں فرق آگیا اور وہ غلط نتائج پر پہنچ گیا مگر بہر حال یہ امر واقع ہے کہ جن امور پر صرف عقلی طور پر نظر ڈالی جاوے ان میں بنسبتاً اختلاف زیادہ ہوتا ہے۔19