تبلیغِ ہدایت — Page 18
کے اندر مگر اس سے اتر کر معتبر کتب سیرت و تاریخ بھی داخل ہیں۔چوتھے۔درجہ پر دیگر کتب سماوی اور گذشتہ انبیاء کے تاریخی حالات ہیں۔ان میں بھی بشر طیکہ وہ قرآن شریف کے مخالف نہ ہوں۔بعض اوقات نہایت مفید معلومات کا ذخیرہ ملتا ہے۔خصوصاً گذشتہ نبیوں کے حالات سے بہت روشنی حاصل کی جاسکتی ہے۔کیونکہ اصولی طور پر اللہ تعالیٰ کے رسول ایک ہی رنگ میں رنگین ہوتے اور ایک ہی معیار پر پر کھے جاتے ہیں۔پس ایک نبی کے حالات سمجھنے کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ دوسرے انبیاء کے حالات کا مطالعہ کیا جاوے۔پانچویں درجہ پر علماء سلف یعنی اسلام کے گذشتہ علماء خصوصاً ابتدائی زمانہ کے علماء کے اقوال اور تحریرات ہیں۔ان کی کتب میں بھی نہایت مفید معلومات کا ذخیرہ موجود ہے کیونکہ ان لوگوں نے بھی بڑی محنت اور اخلاص کے ساتھ قرآن وحدیث پر غور کر کے نتائج اخذ کئے ہیں۔بے شک انہوں نے لوازمات بشری کے ماتحت غلطیاں بھی کی ہیں ،لیکن اس سے ان کی خدمات کا مرتبہ کم نہیں ہو جاتا۔یہ وہ پانچ طریق ہیں جو عام طور پر مسلمانوں میں کسی منقولی بحث کے لئے اختیار کئے جا سکتے ہیں لیکن جہاں ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ان پانچ طریقوں کے مطابق کسی مدعی کے دعوے کو پر کھیں اور ان سے باہر نہ جائیں وہاں اس سے بھی بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ ہم ان کے مدارج کو بھی مد نظر رکھیں۔یعنی یہ یاد رکھیں کہ سب سے افضل قرآن شریف ہے جس کے مقابلہ میں باقی سب چیزیں قربان کر دینے کے قابل ہیں۔یہ وہ انتہائی کسوٹی ہے جس پر سب کھوٹا کھرا پر کھا جا سکتا ہے اور کوئی حقیقت مخفی نہیں رہتی۔کیونکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ سلف صالحین کے اقوال کی روشنی میں ایک چیز کی ماہیت مخفی رہے یا انہوں نے کسی غلط بات کو درست سمجھ لیا ہو یا درست کو غلط قرار دے دیا ہو اور یہ بھی مکن ہے کہ گذشتہ کتب سماوی اور حالات انبیاء ہم تک صحیح طور پر نہ پہنچے ہوں اور ہم ان کی بناء پر ٹھوکر کھا جائیں اور غلط نتائج اخذ کر لیں پھر یہ بھی ممکن ہے کہ احادیث کی روایت میں کوئی غلطی ہو اور کسی وجہ سے کوئی لفظ یا مفہوم بدل گیا ہو یا کوئی غلط اور موضوع روایت داخل 18