تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 259 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 259

کے علاوہ میں اس جگہ دو حدیثیں اور پیش کرتا ہوں جن سے یہ بات صاف طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ امت محمدیہ میں نبوت کا دروازہ بند نہیں بلکہ گھلا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ نے فرمایا :- لوعاش ابراهيم لكان صديقاً نبيا۔(ابن ماجہ جلدا کتاب الجنائز) یعنی اگر میرا یہ بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضر ورصدیق نبی ہو جاتا۔“ اس حدیث کے معنوں میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔الفاظ صاف ہیں اور مطلب بالکل واضح اور وہ یہ کہ اگر میرا یہ بیٹا جو قضاء الہی سے فوت ہو گیا ہے فوت نہ ہو جا تا اور زندہ رہتا تو وہ ضرور نبی ہوتا۔آپ یہ نہیں فرماتے کہ اس بچے میں فطری استعداد کے طور پر نبوت کا مادہ موجود تھا۔بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ زندہ رہتا تو نبی ہو جاتا۔آب امکانی طور پر اس حدیث کے صرف دو ہی معنے ہو سکتے ہیں۔یاتو یہ کہ میرا بیٹا ابراہیم اگر زندگی پا تا توضرور نبوت کے مقام کو پہنچ جاتا لیکن چونکہ نبوت کا دروازہ بند ہو چکا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اُسے وفات دیدی اور یا یہ سمجھا جائے کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی بن جاتا۔ان دور استوں کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔یعنی امکانی طور پر عقلاً صرف دو نتیجے ہی نکالے جاسکتے ہیں یا تو یہ کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور یا یہ کہ چونکہ نبوت کا دروازہ بند ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو وفات دیدی کہ کہیں وہ بڑا ہو کر نبی نہ بن جائے۔گویا یا تو نبوت کا دروازہ کھلا ماننا پڑے گا اور یا ابراہیم کی وفات کی وجہ یہ قرار دینی پڑے گی کہ خدا نے خیال کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نبی بن کر نبوت کے دروازہ کو جو بند ہو چکا ہے کھول دے اس لئے خدا نے خوف کھا کر اُسے بچپن میں وفات دیدی کہ تا نہ ابراہیم بڑا ہو اور نہ نبوت کا دروازہ کھلنے پائے۔گویا ابراہیم کی پیدائش کے وقت تو خدا نعوذ باللہ یہ بات بھول گیا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر نبی بن جائے گا اس لئے اُس نے غلطی سے اسے پیدا ہونے دیا۔مگر بعد میں جب وہ پیدا ہو چکا تو خدا کو یہ بات یاد آئی اور اُس وقت اُس نے جلدی سے اُسے وفات دیدی۔اب ناظرین خود سوچ لیں کہ ان دونوں مفہوموں میں کونسا مفہوم درست اور قابلِ قبول ہے ہمارے نزدیک تو یہ حدیث بآواز بلند پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس امت مرحومہ کے لئے 259