تبلیغِ ہدایت — Page 258
کس وضاحت اور کس صفائی کے ساتھ اس آیت کریمہ میں نبوت کے جاری ہونے کا ذکر موجود ہے اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے دنیا کو مخاطب کر کے فرمارہا ہے کہ اے لوگو اگر آئندہ کسی زمانہ میں تمہارے پاس رسول آئمیں جو تمہیں میں سے ہونگے تو تم انکا انکار نہ کرنا۔بلکہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا اور ان رسولوں کو مان کر اپنی اصلاح کرنا۔یہ تمہارے خوف اور حزن کے دور کرنے کا موجب ہوگا۔خوف اور حزن سے محفوظ ہونے کے الفاظ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ آنے والا رسول اس زمانہ میں آئے گا کہ جب مسلمانوں پر بہت خوف اور حزن طاری ہوگا۔مگر جو لوگ اس رسول کو مان لیں گے اُن سے یہ خوف و حزن دور کیا جائے گا۔اور آیت میں رسل کا لفظ جو بصیغہ جمع بیان کیا گیا ہے اس میں اُس حقیقت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے جو آیت وَإِذَ الرُّسُلُ أَقِتَت۔(سورۃ مرسلات) میں بیان ہوئی ہے جس سے یہ مراد ہے کہ آخری زمانہ میں تمام رسول ( ایک ہی بروزی وجود میں ) جمع کئے جائیں گے۔اور یہ بروز مسیح موعود ہے گویا آیت زیر غور میں جو رسل کا لفظ جمع کے صیغہ میں استعمال ہوا ہے اس سے ایک سے زیادہ رسول بھی مراد ہو سکتے ہیں اور صرف مسیح موعود بھی مراد ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تمام رسولوں کا بروز ہونے کی وجہ سے اُن سب کا قائم مقام ہے اور اس آیت میں جو منکم کا لفظ رکھا گیا ہے اس میں یہ اشارہ بھی مقصود ہے کہ مسیح موعود اس وقت مبعوث ہو گا جب مسلمان آنے والے مسیح کو کسی غیر اُمت میں سے سمجھ رہے ہونگے مگر وہ اُنہیں میں سے آئے گا۔اسی لئے کہا گیا کہ اگر وہ تم میں سے آئے تو انکار نہ کرنا۔بہر حال یہ آیت خواہ عام ہو یا کہ خاص مسیح موعود کی بعثت کے متعلق ہو اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نہایت وضاحت کے ساتھ اس بات کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ امت محمدیہ میں نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا بلکہ اُمید دلائی ہے کہ مسلمانوں میں خدا کی طرف سے رسول مبعوث کئے جائیں گے۔حدیث سے سلسلہ نبوت کا جاری ہونا ثابت ہے اب میں حدیث کو لیتا ہوں۔اس ضمن میں بعض احادیث کی بحث او پر گذر چکی ہے ان 258