تبلیغِ ہدایت — Page 244
کوئی قول اس کے خلاف مروی نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسرے صحابہ کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ صرف تشریعی نبوت کا دروازہ بند ہے اور صحابہ کے زمانہ کے بعد تو جیسا کہ امام احمد بن حنبل نے فرمایا ہے کہ اجماع کا دعوی ہی غلط ہے۔(مسلم الثبوت جلد ۲ صفحہ (۶۸) کیونکہ صحابہ کے بعد اُمت محمدیہ اس کثرت کے ساتھ مختلف بلاد میں پھیل گئی کہ اجماع کا پتہ لگانا ہی غیر ممکن ہو گیا۔پس یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کسی مسئلہ میں اُمت کا اجماع ہوا ہے مگر تا ہم اتمام حجت کے لئے اس فرضی اجماع کے خلاف نمونہ کے طور پر چند بزرگان سلف کی آراء ذیل میں پیش کی جاتی ہیں اور یہ آراء حضرت عائشہ صدیقہ کے اس واضح ارشاد کے علاوہ ہیں جس کا ذکر او پر گذر چکا ہے۔حضرت محی الدین ابن عربی ( وفات ۳۸ بہ ہجری) جو ایک بہت بڑے عالم اور تصوف کے امام گذرے ہیں فرماتے ہیں :- النبوة التى انقطعت بوجود رسول الله صلى الله عليه وسلم انّما هي نبوّة التشريع۔۔۔۔۔وَهذا معنى قوله صلى الله عليه وسلّم انّ الرسالة النبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبي اى لا نبي بعدى يكون على شرع يخالف شرعى بل اذا كان يكون تحت حكم شریعتی۔(فتوحات مکیه جلد ثانی صفحه ۳) یعنی وہ نبوت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے منقطع ہوگئی ہے وہ صرف تشریعی نبوت ہے۔یعنی اب صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے کہ اب رسالت و نبوت منقطع ہو گئی ہے۔یہی مراد ہے کہ میرے بعد ایسا کوئی نبی اور رسول نہیں آسکتا جو ایسی شریعت پر ہو جو میری شریعت کے مخالف ہے بلکہ جب کبھی بھی کوئی نبی ہوگا تو وہ میری شریعت کے ماتحت ہی ہوگا۔“ حضرت امام عبد الوہاب شعرانی ( وفات 1 2 ہجری ) فرماتے ہیں :- فان مطلق النبوة لم ترتفع وانّما ارتفعت نبوّة التشريع (الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحہ ۲۴) 244