تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 237 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 237

آیت زیر غور میں بھی لکین کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی آیت اس طرح پر ہے۔محمد رسول اللہ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں ہے لیکن آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔اب اس جگہ ضروری ہے کہ لیکن کے بعد والے فقرہ کے کوئی ایسے معنے کئے جائیں جو لیکن سے پہلے فقرے کے مفہوم پر ہوں۔یا یہ کہ پہلے فقرے سے جو خیال اور شبہ پیدا ہوتا ہو اس کا وہ کسی دوسرے طریق پر ازالہ کرتے ہوں اب اس تشریح کے ماتحت غور کر کے دیکھ لو کہ اگر ہمارے مخالفوں والے معنے قبول کئے جائیں تو آیت خاتم النبین کے کوئی معقول معنے بن ہی نہیں سکتے۔کیونکہ آیت میں لیکن سے پہلے فقرے کا یہ مفہوم ہے کہ آپ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں۔اب اگر خاتم النبین کے یہ معنے ہوں کہ آپ کے آنے سے نبیوں کی آمد بند ہوگئی ہے اور اب کوئی نبی نہیں آ سکتا ہے تو بالفاظ دیگر آیت کا یہ ترجمہ ہوگا۔محمد رسول اللہ کی کوئی جسمانی نرینہ اولاد نہیں ہے، لیکن آپ کے آنے سے سلسلہ نبوت بھی بند ہو گیا ہے۔جو ایک بالکل مہمل اور بے معنی کلام ہے۔ہاں جو معنے ہم کرتے ہیں وہ بے شک لفظ لکن کے مفہوم کے عین مطابق ہیں کیونکہ ہم یہ معنے کرتے ہیں کہ گو محمد رسول اللہ کی جسمانی اولاد تو نہیں ہے لیکن آپ کی روحانی اولاد بہت ہے حتی کہ آپ کی روحانی اولاد میں نبی اور رسول بھی ہو سکتے ہیں۔گویا ہمارے مخالفین کے معنوں کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں آدمی کے پاس گود نیاوی مال نہیں ہے، لیکن روحانی مال بھی تھوڑا ہی ہے اور ہمارے معنوں کی یہ مثال ہے کہ فلاں شخص کے پاس گو دنیاوی مال نہیں ہے لیکن روحانی مال بہت ہے حتی کہ روحانی مال میں وہ بادشاہ ہے بلکہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے اب ناظرین خودسوچ لیں کہ ان دونوں معنوں میں سے کون سے معنے درست اور صحیح ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس آیت کا سیاق و سباق صاف بتا رہا ہے کہ آیت کے وہی معنے درست ہیں جو ہم کرتے ہیں اور ہمارے مخالفین کے معنے بالکل مہمل بلکہ مضحکہ خیز ہیں۔پس ثابت ہوا کہ آیت خاتم النبین کی تشریح صرف یہی نہیں کہ وہ نبوت کے دروازہ کو بند نہیں کرتی بلکہ وہ ظلی اور بروزی نبوت کے دروازہ کو کھولتی بھی ہے۔وہو المراد۔237