تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 236 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 236

نبیوں اور رسولوں کے بھی باپ ہیں اور آپ کو وہ بلند مقام حاصل ہے کہ اب کوئی رسول یا نبی نہیں آسکتا جب تک کہ آپ کے دربار کی تصدیقی مہر اُس کے ساتھ نہ ہو۔گویا آپ عام مومنوں کے ہی روحانی باپ نہیں ہیں بلکہ نبیوں اور رسولوں کے بھی روحانی باپ ہیں۔اس تشریح کے ماتحت آیت کا یہ مطلب ہوا کہ اگر آپ کی جسمانی نرینہ اولاد نہیں ہے تو اس سے آپ کی شان میں فرق نہیں آتا اور آپ منعوذ باللہ ابتر نہیں ٹھہر تے بلکہ حق یہ ہے کہ آپ کثیر التعداد اور عالی مرتبہ اولاد کے باپ ہیں۔اب دیکھو اس آیت سے آپ کے بعد نبوت کے دروازے کے بند ہونے کا مفہوم کہاں نکلا؟ اور لطف یہ ہے کہ اگر خاتم النبیین کے معنے آخری نبی کے کئے جائیں تو آیت کے کچھ معنے ہی نہیں بنتے اور نعوذ باللہ یہ آیت ایک مہمل کلام کا رنگ اختیار کر لیتی ہے کیونکہ اس صورت میں آیت کا ترجمہ یہ بنتا ہے کہ محمد رسول اللہ کا کوئی بیٹا تو بیشک نہیں ہے، لیکن آپ آخری نبی ہیں“۔جو ایک مہمل کلام ہے۔ظاہر ہے کہ لکن کا لفظ جو آیت میں وارد ہوا ہے وہ عربی زبان میں اُس موقعہ پر استعمال ہوتا ہے کہ جب گذشتہ فقرہ میں جو مفہوم بیان ہوا ہو اس کے بعد اس کے مقابل کا مفہوم بیان کرنا مقصود ہوں۔جیسے مثلاً یہ کہیں کہ زید بہادر تو ہے، لیکن بدن کا کمزور ہے۔یا یہ کہیں کہ خالد نا خواندہ تو ہے لیکن عظمند ہے۔یعنی اگر پہلے فقرہ میں کوئی خوبی بیان کی گئی ہو تو ں کین کے بعد اُس کے مقابل کا کوئی نقص بیان کرتے ہیں یا اگر پہلے فقرہ میں کسی نقص کا بیان ہو تو بعد کے فقرہ میں مقابل کی خوبی بیان کرتے ہیں۔یا پھر یکین کا لفظ اس موقعہ پر استعمال کرتے ہیں کہ جب گذشتہ کلام سے کوئی شبہ پیدا ہوتا ہو اور اگلے فقرہ میں اس کا ازالہ کرنا مقصود ہو۔مثلاً کہتے ہیں کہ سب لوگ اٹھ کر چلے گئے لیکن عمر نہیں گیا۔اب اس جگہ سب کے اٹھ کر چلے جانے کے الفاظ سے یہ شبہ ہوتا تھا کہ شاید کوئی شخص بھی بیٹھا نہ رہا ہو۔اس لئے لیکن کے استعمال کے بعد اس شبہ کا ازالہ کر دیا گیا اس مفہوم کو عربی میں استدراك کہتے ہیں چنانچہ عربی لغت کی کتابوں میں صراحةً لکھا ہے کہ لکن کا لفظ استدراک کے لئے آتا ہے۔اس تشریح کے بعد آیت زیر بحث پر نظر ڈالی جائے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کیونکہ 236