تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 231 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 231

شریف میں بیان ہوا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی خاتم النبین ہیں اور ختم نبوت پر ہم صدق دل سے ایمان لاتے ہیں اور اس کے انکار کو کفر خیال کرتے ہیں۔ہاں بے شک ہم خاتم النبین کے وہ معنے نہیں کرتے جو آج کل کے اکثر غیر احمدی مولوی کرتے ہیں۔یعنی ہمارے نزد یک خاتم النبیین کے یہ معنے نہیں ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ کلّی طور پر بند ہو چکا ہے اور اب کوئی شخص کسی معنی میں بھی نبی نہیں ہوسکتا۔بلکہ ہمارے نزد یک خاتم النبیین کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب نبیوں سے افضل اور نبیوں کی مہر ہیں۔یعنی چونکہ آپ کے اندر تمام کمالات نبوت کامل طور پر اور بصورت اتم جمع ہیں۔لہذا آئندہ کوئی شخص نبوت کے انعام سے حصہ نہیں لے سکتا جب تک کہ وہ آپ کے لگائے ہوئے باغ کا پھل نہ کھائے۔اور آپ کے چشمہ فیض سے سیراب نہ ہو اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کا پابند نہ ہو۔گویا اب روحانی کمالات کے حصول کے لئے آپ کی تصدیقی عہر ضروری ہوگئی ہے۔اور آپ کے بعد ایسا کوئی نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے یا براہ راست مستقل حیثیت میں نبوت کا انعام پائے۔ہاں ظلی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مرزا صاحب بھی ظلی نبی تھے اور ظلی نبوت کے ہمارے نزدیک یہ معنے ہیں کہ جب کوئی کامل فرد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور محبت میں اپنے نفس کو ایسا صاف کرلے کہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے صیقل شدہ آئینہ کی طرح مصفحے ہو جائے اور کوئی کدورت اس میں باقی نہ رہے اور پھر وہ فطری استعداد بھی کامل رکھتا ہو تی کہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ کی محبت میں محو کر کے اپنے نفس کے آئینے کو پورے طور پر آپ کے وجود باجود کے سامنے لے آئے تو اس صورت میں آپ کے اوصاف اور آپ کے کمالات اُس کے آئینہ نفس پر اسی طرح اُتر آئیں گے جس طرح کہ ایک مصفحے آئینہ میں دیکھنے والے شخص کے خد و خال اتر آتے ہیں گویا وہ اس صورت میں آپ کا ظلت یعنی عکس ہو جائے گا اور اگر ایسا شخص کمالات نبوت کی بھی استعداد رکھتا ہو اور اُسکے فطری قوی اس پیمانہ پر واقع ہوئے ہوں کہ کمالات نبوت کا عکس قبول کر سکیں تو آپ کی نبوت بھی ظلی طور پر اس میں ظاہر ہو جائے گی اور وہ آپ کی اتباع سے بروزی صورت میں نبوت کا 231