تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 221 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 221

دکھائیں آسماں نے ساری آیات زمیں نے وقت کی دیدیں شہادات پھر اس کے بعد کون آئیگا ہیہات خدا سے کچھ ڈرو چھوڑو معادات اپنے منکروں کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے بھی خوب فرمایا ہے کہ نادانو ! میں تمہارے طمانچے کھانے کے لئے نہیں آیا۔جب میری سچائی پر خدا نے گواہی دے دی اور زمین و آسمان نے الوقت پکارا اور قرآن شریف کی سب اور احادیث کی اکثر علامات پوری ہو گئیں تو پھر تمہیں چاہئے تھا کہ مجھے قبول کرتے اور بجائے اس کے کہ مجھے ان حدیثوں کے ساتھ ناپتے حق یہ تھا کہ ان حدیثوں کو میرے ساتھ ناپتے۔اور جو احادیث میرے مطابق نہ اُتریں ان کی تاویل کرتے یا ضعیف قراردیکر چھوڑ دیتے۔کیونکہ میں خدا کی وحی کے ساتھ بولتا ہوں اور حکم و عدل ہوکر آیا ہوں۔مبارک وہ جو اس نکتہ کو پہچانتا اور ہلاک ہونے سے بچ جاتا ہے۔اب ہم نہایت مختصر طور پر وہ وجوہ بتائے دیتے ہیں جن کی بناء پر سمجھا جاتا ہے کہ بعض علامتیں پوری نہیں ہو ئیں۔سوسب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ جن علامتوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پوری نہیں ہو ئیں اُن کا علم ہمیں صرف احاد یعنی نسبتا کم معروف احادیث کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے مگر ایسی احادیث کے متعلق امت نے اجماع کیا ہے کہ ان سے صرف علم ظنی پیدا ہوتا ہے یقینی اور قطعی علم پیدا نہیں ہوتا۔یقینی اور قطعی علم صرف حدیث متواتر سے پیدا ہوتا ہے۔مگر اس بات پر بھی اجماع ہے کہ تواتر کا مرتبہ صرف قرآن شریف کو حاصل ہے۔باقی اکثر حدیثیں احاد ہیں جن کے متعلق فقہاء اور محدثین کا اتفاق ہے کہ ان سے صرف علم ظنی پیدا ہوتا ہے۔بیشک بعض محمد ثین نے بعض احادیث مثلاً حديث إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات اور حدیث من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار کے متواتر ہونے کا خیال ظاہر کیا ہے لیکن جس بات پر تمام امت کا اتفاق ہے وہ یہی ہے کہ تواتر کا مرتبہ صرف قرآن کریم ہی کو حاصل ہے باقی سب روایات احاد کے حکم میں ہیں۔اور جو روایات قرب قیامت اور نزول مسیح موعود اور اس کی علامات وغیرہ کے متعلق وارد ہوئی ہیں اُن کے لئے تو ساری اُمت کا یہ متفقہ فتویٰ ہے کہ وہ احاد ہیں متواتر ہرگز نہیں ہیں۔گویا اجماع اُمت سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس بارے میں جتنی روایات ہیں وہ صرف علم ظنی کے لئے مفید 221