تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 220 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 220

عزیز وا پیارو! سوچو اور سمجھو! کہ وہ جو مسیح موعود ہوکر اور خدا سے تربیت پا کر اور مُخبر صادق سے علم و عدل کا لقب حاصل کر کے دنیا کی اصلاح کے لئے آتا ہے تم اس کو اتنا مرتبہ بھی نہیں دیتے جتنا ایک معمولی محمدت کے لئے تسلیم کرتے ہو۔اور پھر تم میں سے بہت ہیں، جن کا یہ عقیدہ ہے کہ اہل باطن اور اصحاب کشف ورڈ یا بعض اوقات اپنے رویا و کشف اور الہام کے ذریعہ کسی حدیث کے ضعف وقوت کا پتہ لگا لیتے ہیں مگر تم مسیح موعود کے لئے یہ مرتبہ بھی قبول کرنے کو تیار نہیں اے بد قسمت قوم ! خدا تیری آنکھیں کھو لے کیا یہ امن کا راستہ نہ تھا کہ جب قرآن شریف اور حدیث صحیح اور عقل خدا داد نے حضرت مرزا صاحب کے دعوے پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی تو پھر بعض وہ تفصیلات جن کے متعلق یہ خیال ہوتا تھا کہ وہ جسطرح سمجھی گئی تھیں اس طرح وقوع میں نہیں آئیں خدا کے حوالے کر دی جاتیں اور انکار کی طرف قدم نہ اٹھایا جاتا۔مگر اے بدنصیب گروہ ! تجھے کس سے تشبیہ دی جائے؟ تیری مثال تو اُس شخص کی ہے جس نے ایک دُولھے کے آنے کی خوشی میں بڑی دھوم دھام سے تیاری کی اور اپنی برادری اور پڑوس کے لوگوں کو بھی اُس کی آمد کا مژدہ سنا کر جشن میں شرکت کی دعوت دی۔لیکن جب دولہا آیا اور عین وقت پر آیا اور علامات مقررہ کے مطابق آیا اور ایک دلائل کا سورج بھی اپنے ساتھ لایا تو اُس نادان نے یہ سب کچھ دیکھ بھال کر صرف اس لئے دو لہے کی طرف سے منہ پھیر لیا اور اسپر اپنا دروازہ بند کر لیا کہ دولہے کی آمد کی جو تفصیلات اُس نے سمجھ رکھی تھیں اُن میں سے اُسے بزعم خود بعض نظر نہیں آئیں۔تب اسے غیب سے ایک رُعب دار آواز آئی کہ بس اب برات اور اُس کے جشن کی دھوم دھام کا خیال جانے دے اور اپنی بدنصیبی ومحرومی پر آنسو بہا کہ دولہا جو آنے والا تھا وہ آیا اور تیرے دروازہ کو بند پا کر تیرے بھائیوں کے گھر میں داخل ہو گیا۔کیونکہ انہوں نے اُس کے لئے خوشی سے اپنے دروازے کھولے اور اُسے قبول کیا اور خدا کا شکر بجالائے۔حضرت مرزا صاحب اپنے منکروں اور ماننے والوں کے متعلق یکجائی ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں انہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي وہ آیا منتظر تھے جس کے دن رات معمہ کھل گیا روشن ہوئی بات 220