تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 207 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 207

میں جماعت کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ہمارے بیت المال پر غیر معمولی بار ڈالا تو بہت سے لوگوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی یعنی جماعت کے امام کو لکھا کہ ہم اپنی تمام جائیداد میں اور اموال حضور کے گلی اختیار میں دیتے ہیں جس طرح چاہیں تصرف میں لائیں۔رشتہ داروں کی قربانی کے موقعے بھی احمدیوں میں سے ہزاروں کو پیش آئے اور الحمد للہ کہ اکثر ( والشاذ كالمعدوم ) اس امتحان میں کامیاب نکلے ہیں۔بعضوں کو اپنے ایمان کی خاطر اپنے والدین کو چھوڑنا پڑا۔( یعنی قرآنی تعلیم کے ماتحت اُن کی مرضی اور خواہش قربان کر دینی پڑی ) اور انہوں نے ایمان کو اختیار کیا اور خدا کی خاطر والدین کو چھوڑ دیا۔بعضوں نے اپنی اولاد کو چھوڑا بعضوں نے اپنی بیویوں کو چھوڑا مگر ایمان کو نہ چھوڑا۔انہوں نے دین کے رشتہ کو اختیار کیا اور دنیوی رشتوں کو قربان کر دیا۔ایسی مثالیں بیسیوں نہیں سینکڑوں نہیں ہزاروں ہیں۔جان کی قربانی اس رنگ میں تو اکثر نے کر دکھائی ہے کہ اپنی تمام طاقتیں دین کے لئے وقف کر رکھی ہیں۔مگر جان کی حقیقی قربانی کا موقعہ احمدیوں کو ہندوستان میں پیش نہیں آیا جس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں ایک پر امن و مستحکم حکومت قائم تھی جس نے مذہبی آزادی دے رکھی تھی اور قتل و غارت اور خون خرابے کا میدان گرم نہیں ہونے دیتی تھی اس لئے خدا نے ہندوستان میں احمدیوں کو خونی امتحان سے محفوظ رکھا ہے گو بدنی تکالیف اور ایڈا کے متعد دمواقع یہاں بھی پیش آئے ہیں اور احمدیوں نے اس امتحان کو بطیب خاطر برداشت کر کے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ وہ ہر قسم کی بدنی قربانی کے لئے تیار ہیں۔یہ لکی تقسیم سے پہلے کا نوٹ ہے۔بعد کے حالات کو خدا جانتا ہے۔مولف ) مگر ہاں ہندوستان سے باہر احمدیوں کو جان کی قربانی کے مواقع بھی پیش آئے ہیں اور غالباً ناظرین جانتے ہوں گے کہ حضرت مرزا صاحب کے حلقہ بگوشوں نے کس صبر بلکہ کس خوشی سے اس امتحان کو قبول کیا ہے۔افغانستان میں امیر عبدالرحمن خان اور پھر امیر حبیب اللہ خاں کے عہد میں دو مقدس انسان جن میں سے ایک یعنی صاحبزادہ مولوی سید عبداللطیف صاحب علمی لحاظ سے نہایت جلیل القدر اور عظیم المرتبت بزرگ ہونے کے علاوہ دنیوی وجاہت کے لحاظ سے بھی ایک بڑے معزز رئیس اور ہزار ہا آدمیوں کے مقتداء تھے وہ محض احمدی ہونے کی 207