تبلیغِ ہدایت — Page 200
اس محبت کا علم ہوگا تو اس طرح نہیں ہوگا کہ زید کی محبت مجسم ہو کر اُس کے سامنے آجائے گی۔بلکہ اس طرح ہوگا کہ جب زید کے قول و فعل میں وہ ایسی باتیں دیکھے گا جن کے ذریعہ دنیا میں محبت کا اظہار ہوا کرتا ہے تو وہ اُس سے زید کی محبت کو پہچان لے گا۔اسی طرح مثلاً غضب کا جذبہ ہے جو خود تو نظر نہیں آتا لیکن جب ہم ایک شخص کو ایک ہیئت میں دیکھتے ہیں اور ہم اپنے گذشتہ علم سے یہ جانتے ہیں کہ یہ ہیئت غضب کے وقت میں ہوا کرتی ہے تو ہمیں یہ علم حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ شخص اس وقت حالت غضب میں ہے الغرض غیر مادی اشیاء ظاہر میں محسوس نہیں ہوتیں مگر اُن کے آثار سے اُن کے وجود کا پتہ چلتا ہے اور یہ علم ایسا ہی یقینی ہوتا ہے جیسا کہ مادی اشیاء کے مشاہدات سے حاصل ہونے والا علم۔پس ایمان بھی چونکہ ایک غیر مادی شے ہے۔اس لئے اس کا علم بھی ہمیں اسی طریق سے ہوسکتا ہے کہ ہم اس کے آثار کا مشاہدہ کریں اب چونکہ بغیر آثار کے مشاہدہ کے ایمان کا علم ناممکن ہے لہذا ایمان کا پتہ لگانے کے لئے اس کے آثار کا علم ضروری ہوگیا اور ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ وہ آثار یہ ہیں :- اول۔مومن کے اعمال شریعت کے مطابق ہونگے۔یعنی مومن وہی باتیں کرے گا جن کا شریعت نے حکم دیا ہے اور اُن باتوں سے بچے گا جن سے شریعت نے روکا ہے اور یہ مطابقت عبادات اور اخلاق اور معاملات وغیرہ سب پہلوؤں میں ظاہر ہوگی۔دوم۔مومن اسلام کے لئے پوری غیرت رکھے گا یعنی جب کوئی شخص اس کے سامنے اسلام پر قولاً یا فعلاً حملہ کرے گا تو وہ اسے کبھی گوارا نہیں کرے گا اور غیرت سے بھر جائے گا اور وہ دینی لحاظ سے بری صحبت کو کبھی پسند نہیں کرے گا اور کسی ایسی مجلس میں ہر گز نہیں بیٹھے گا جس میں اسلام کی باتوں پر جنسی اُڑائی جاتی ہو یا وہ خفت کی نظر سے دیکھی جاتی ہوں۔سوم۔مومن ہمیشہ تبلیغ اسلام کے کام میں اپنی طاقت کے مطابق مصروف رہے گا اور اُس کو یہ شوق ہوگا کہ جتنا وقت بھی نکال سکے اسلام کی تبلیغ میں خرچ کرے اور اسلام پر جو حملے ہوں ان کارڈ کرے اور باطل کا مقابلہ اور حق کی تائید کرتار ہے۔چہارم۔مومن اپنی تقریر و تحریر میں کثرت کے ساتھ خدا اور اُس کے رسول اور اس کی 200