تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 187 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 187

کے متعلق ظاہر کی ہے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔پہلی رائے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی ہے جو انہوں نے حضرت مرزا صاحب کی ابتدائی تصنیف براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے ظاہر کی جس وقت کہ وہ ابھی حضرت مرزا صاحب کے مخالف نہ ہوئے تھے۔مولوی صاحب لکھتے ہیں :- ”ہماری رائے میں یہ کتاب (یعنی براہین احمدیہ مصنفہ حضرت مرزا صاحب ) اس زمانہ میں موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں شائع نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں لعل الله يُحدث بعد ذلک امراً اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم از کم ایک ایسی کتاب بتادے۔جس میں جملہ فرقہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ و برہمو سماج سے اس زورشور سے مقابلہ پایا جاتا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کی نشان دہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی۔قلمی ولسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بھی بیڑہ اٹھالیا ہو اور مخالفین اسلام و منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجو دالہام میں شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ و مشاہدہ کرلے۔اور اس تجر بہ ومشاہدہ کا اقوامِ غیر کو مزہ بھی چکھا دیا ہو۔۔۔۔۔مؤلف صاحب ہمارے ہموطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے ( جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکتب ہیں۔اس زمانہ سے آج تک ہم میں اُن کی خط و کتابت و ملاقات ومراسلت برابر جاری رہی ہے اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم ان کے حالات و خیالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دیئے جانے کے لائق ہے۔۔۔۔۔۔مؤلف براہین احمدیہ نے مسلمانوں کی عزت رکھ دکھائی ہے اور مخالفین اسلام سے شرطیں لگا لگا کر تحدی کی ہے اور یہ منادی اکثر روئے زمین پر کر دی ہے کہ جس شخص کو اسلام کی حقانیت میں شک ہو وہ ہمارے پاس آئے۔۔۔۔۔187