تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 172 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 172

قادر نہیں ہونگی کہ اپنی کتابوں کے یہ کمال دکھا سکیں خواہ وہ عیسائی ہوں، خواہ آریہ، خواہ سناتن دھرم والے۔یا کوئی اور۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اُس روز اس پاک کتاب کا جلوہ ظاہر ہو۔میں نے عالم کشف میں اس کے متعلق دیکھا کہ میرے محل پر غیب سے ایک ہاتھ مارا گیا اور اس ہاتھ کے چھونے سے اس محل میں سے ایک نور ساطع نکلا۔جو اردگرد پھیل گیا۔اور میرے ہاتھوں پر بھی اس کی روشنی پڑی۔تب ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا وہ بلند آواز سے بولا۔اللہ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَیبر۔اس کی یہ تعبیر ہے کہ اس محل سے میرا دل مراد ہے جو جائے نزول وحلول انوار ہے اور وہ قرآنی معارف ہیں اور خیبر سے مراد تمام خراب مذاہب ہیں جن میں شرک اور باطل کی ملونی ہے اور انسان کو خدا کی جگہ دی گئی یا خدا کی صفات کو اپنے کامل محل سے نیچے گرا دیا ہے سو مجھے جتلایا گیا ہے کہ اس مضمون کے خوب پھیلنے کے بعد جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ کھل جائے گا اور قرآنی سچائی دن بدن زمین پر پھیلتی جائے گی جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کر لے۔پھر میں اس کشفی حالت سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے یہ الہام ہوا۔انَّ اللَّهَ مَعَكَ إِنَّ اللَّهَ يَقُوْمُ أَيْنَمَا قُمْتَ۔یعنی خدا تیرے ساتھ ہے اور خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہوتا ہے یہ حمایت الہی کے لئے ایک استعارہ ہے۔اب میں زیادہ لکھنا نہیں چاہتا۔ہر ایک کو یہی اطلاع دیتا ہوں کہ اپنا اپنا حرج کر کے بھی ان معارف کو سننے کے لئے ضرور بمقام لا ہور تاریخ جلسہ پر آویں کہ اُن کی عقل اور ایمان کو اس سے وہ فائدے حاصل ہونگے کہ وہ گمان نہیں کر سکتے ہو نگے۔( دیکھو تبلیغ رسالت) یہ اشتہار لاہور اور ملک کے دوسرے مقامات میں جلسہ سے کئی دن پہلے شائع کر دیا گیا۔پھر جب جلسہ کی تاریخ آئی اور جلسہ شروع ہوا تو تمام مذاہب کے نمائندے حاضر تھے اور سب نے سجا سجا کر تقریریں کیں۔اور جب حضرت مرزا صاحب کی تقریر کی باری آئی تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کھڑے ہوئے اور حضرت مرزا صاحب کی لکھی ہوئی تقریر پڑھنی شروع کی۔اس تقریر کو سننے کے لئے خاص طور پر کثرت کے ساتھ لوگ آئے تھے حتی کہ ہال میں جگہ نہ رہی تھی اور لوگوں پر اس تقریر کا ایسا اثر ہوا کہ گویا محویت اور وجد کا عالم طاری ہو گیا۔جب دو گھنٹے جو اس 172