تبلیغِ ہدایت — Page 6
سے بڑھ کر کچھ نہیں مگر کیا یہ ایمان نجات کے واسطے کافی ہے؟ اور کیا اس درجہ تک کی معرفت انسانی زندگی کے اندر کوئی حقیقی انقلاب پیدا کرسکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔بلکہ نجات کے واسطے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق ہمارا ایمان اس حد تک ہو کہ گویا ہم نے خدا کو دیکھ لیا اور اس کی ہستی کے وجود کو محسوس کر لیا اور ہمارا ایمان ہونا چاہئے تک نہ رہے بلکہ ” ہے“ کے یقینی مرتبہ تک پہنچ جائے۔یہ وہ ایمان ہے جو اصلاح کر سکتا ہے اور دل کے اندر یقین پیدا کرتا ہے اور نفس کی گری ہوئی خواہشات کو جلا کر خاک کر دیتا ہے اور انسان کو ایک نئی زندگی بخشا اور اس کے اندر ایک نئی روح پیدا کر دیتا ہے۔اور خالق ہستی کے ساتھ اُس کا ذاتی تعلق قائم کر دیتا ہے۔حتی کہ خدا خود بندے سے کلام کرتا اور اس کی دُعاؤں کو سنتا اور اس کے سوالات کا جواب دیتا ہے مگر یہ باتیں ظاہری علم سے حاصل نہیں ہوسکتیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ظاہری علوم کا عالم انہیں جانتا ہو۔اسلام میں مجد دین کا سلسلہ غرض اسلام کی یہ ایک خصوصیت ہے کہ اس کے اندر ہمیشہ ضرورت کے وقت ایسے شخصوں کا وجود قائم رہا ہے جو شرف مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے مشرف تھے اور خدا سے اصلاح پا کر دنیا کی اصلاح کرتے تھے اور اسلامی تعلیمات کی رُوح ان کے ذریعہ زندہ رہتی تھی۔ایسے شخص یوں تو وقتاً فوقتاً ہمیشہ اسلام میں پیدا ہوتے رہے ہیں۔مگر ہر صدی کے سر پر خصوصاً اُن کا ظہور ہوتا رہا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ :- اِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا۔(ابوداؤ دجلد ۲ باب الملاحم) یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے اندر ہر صدی کے سر پر کسی ایسے شخص کو مبعوث کیا کرے گا جو اُن کی ان غلطیوں کی اصلاح کیا کرے گا جو درمیانی عرصہ میں پیدا ہو چکی ہونگی اور مسلمانوں کو نئی زندگی بخشا کریگا۔“ 6