تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 146 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 146

منتظر ہے آریوں کا خدا مرزا صاحب کو ہلاک کرنا تو در کنار اپنے مخلص بندے لیکھرام کو مرزا صاحب کی سازش سے بھی محفوظ نہ رکھ سکا اور اس کے مقابلہ میں اسلام کے خدا نے نہ صرف حضرت مرزا صاحب کو تمام آسمانی اور زمینی آفتوں سے محفوظ رکھا بلکہ آپ کے دشمن کو آپ کی پیشگوئی کے عین مطابق ہلاک کر کے اسلام کی صداقت اور آریہ مذہب کے کذب کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ کر دیا۔پھر ہم کہتے ہیں کہ اے آریہ صاحبان ! تم حضرت مرزا صاحب پر تو قتل کی سازش کا شبہ کرتے ہومگر یہ تو بتاؤ کہ باوجود تعداد اور طاقت اور مال میں زیادہ ہونے کے تم نے کیوں حضرت مرزا صاحب کو قتل نہ کروا دیا ؟ حالانکہ تمہاری قتل کی دھمکیاں بتا رہی ہیں کہ تم ان معاملات میں خوب مشاق ہو۔کیا یہ درست نہیں کہ تمہارے وکیل کے خاک میں مل جانے کے بعد حضرت مرزا صاحب گیارہ سال تک تمہارے سروں پر رعد کی طرح گر جائے ؟ اور تم نے اُن کو قتل کی دھمکیاں بھی دیں۔بلکہ ان دنوں میں مسلمانوں کے بعض بے گناہ بچے پنجاب کے بعض شہروں میں ضائع بھی کئے گئے۔مگر ذرا حضرت مرزا صاحب کا بھی تو بال بریکا کر کے دکھایا ہوتا۔اے بدقسمت قوم ! خدا تیری آنکھیں کھولے۔تو نے نشان مانگا اور وہ تجھے دیا گیا مگر ٹو نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا بلکہ اپنے کفر میں اور بھی ترقی کر گئی۔خدا سے ڈر کہ ایک دن اُس کے سامنے کھڑی کی جائے گی۔پھر ہم ناظرین کرام کو مخاطب کر کے نہایت محبت اور ادب سے عرض کرتے ہیں کہ قتل کا شبہ کرنا علاوہ اس کے کہ وہ پیشگوئی کی صداقت پر کسی قسم کا شک پیدا نہیں کر سکتا بلکہ۔۔۔۔۔قطعی طور پر بے بنیاد اور سراسر افتراء ہے۔ظاہر ہے کہ مُجرم دو طرح ہی ثابت ہو سکتا تھا ایک یہ کہ گورنمنٹ کی تحقیقات میں جرم ثابت ہو جاتا۔دوسرے یہ کہ خدائی فیصلہ سے حضرت مرزا صاحب مجرم قرار پا جاتے۔سو گورنمنٹ کی تحقیقات تو آریہ صاحبان نے دل کھول کر کر والی۔یعنی رپورٹیں کیں۔تلاشیاں کروائیں، خفیہ پولیس کے خاص آدمی پیشل ڈیوٹیوں پر لگوائے اور خود بھی ناخنوں تک زور لگایا۔مگر نتیجہ کیا ہوا؟ کیا کوئی ایک خفیف کی گنجائش بھی شبہ کی ثابت ہوئی ؟ پھر دوسرا طریق خدائی عدالت کا تھا۔سو وہ بھی آریہ صاحبان کے سامنے پیش کر دیا گیا تھا۔مگر اس کی طرف آریہ صاحبان نے رخ تک نہ کیا حالانکہ اس کے لئے یہ شرط کی گئی تھی کہ ہلاکت آسمانی حربہ سے ہوگی 146