تبلیغِ ہدایت — Page 121
اس پر ایسی کاری ضربیں لگائی ہیں کہ اس کا جانبر ہونا مشکل ہے۔( دیکھو حضرت مرزا صاحب کی کتب براہین احمدیہ۔جنگ مقدس - انجام آتھم۔نور القرآن۔سراجدین کے چار سوالوں کا جواب۔کتاب البریہ۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔نور الحق۔چشمہ مسیحی تبلیغ رسالت۔مضامین مندرجہ ریویو وغیرہ۔) اس نقلی اور عقلی بحث کے علاوہ ایک اور نہایت عظیم الشان کام تھا جو آپ نے انجام دیا اور گویا مسیحیت کی عمارت کو بنیادوں سے اٹھا کر دے مارا یہ آپ کی وہ عظیم الشان تاریخی تحقیق ہے جو آپ نے واقعہ صلیب اور مسیح ناصری کی قبر کے متعلق فرمائی ہے آپ نے انجیل اور تاریخ سے روزِ روشن کی طرح ثابت کر دیا ہے کہ :- اول مسیح ناصری جس کی صلیبی موت پر کفارے کی عمارت کھڑی کی گئی ہے صلیب پر چڑھائے تو بیشک گئے مگر وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ غشی کی حالت میں زندہ ہی صلیب سے اُتار لئے گئے اور آپ نے یہ بات ایسے روشن دلائل کے ساتھ ثابت کر دی کہ شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہی۔دوسرے آپ نے بین دلائل کے ساتھ ثابت کر دیا کہ مسیح ناصری جنہیں خدا بنایا گیا ہے فوت ہو چکے ہیں۔تیسرے آپ نے زبر دست تاریخی دلائل سے یہ بات ثابت کر دی کہ واقعہ صلیب کے بعد مسیح اپنے ملک سے ہجرت کر کے کشمیر کی طرف آگئے تھے اور پھر آپ نے براہین قاطعہ سے سری نگر محلہ خانیار میں مسیح کی قبر بھی ثابت کر دی۔اب دیکھو کہ یہ تین زبر دست تحقیقیں جو آپ نے فرمائی ہیں۔مسیحی مذہب کے متعلق کیسا عظیم الشان اثر رکھتی ہیں اور کیا ان کے بعد الوہیت مسیح اور کفارہ کا کچھ باقی رہ جاتا ہے؟ حضرت مسیح اگر صلیب پر نہیں مرے اور صلیب سے زندہ اُتر آئے تو گو یا کفارہ خاک میں مل گیا پھر اگر مسیح اپنی زندگی کے دن گزار کر دوسرے انسانوں کی طرح وفات پاگئے اور زیر خاک مدفون ہوئے اور ان کی قبر بھی مل گئی تو صرف انہیں پر نہیں بلکہ ان کی خدائی پر بھی موت آگئی اور گو یا وہ خود دفن نہیں 121