تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 107 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 107

آپ نے ثابت کیا کہ اسلام اور قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شیرین پھل ہمیشہ جاری ہے اور جیسا کہ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ لَهُمُ الْبُشْرَى فِی الْحَيَوةِ الدُّنْيَاوہ پھل یہی ہے کہ سچی اتباع کرنے والے کو خدا اپنے ذاتی تعلق سے نوازتا ہے اور اُسے حسب استعدادا اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور آپ نے اپنے ذاتی مشاہدہ سے اس مسئلہ کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا۔دیکھو آپ کی کتب براہین احمدیہ ونصرت الحق و نزول اسیح و حقیقة الوحی وغیرہ) دوسرا اختلاف خدا کے متعلق یہ تھا کہ جب تک خدا نے کسی کے متعلق عذاب کا فیصلہ نہ کیا ہو اُس وقت تک تو وہ بے شک رحمت نازل کر سکتا ہے مگر عذاب کے فیصلہ کے بعد وہ تو بہ واستغفار پر بھی عذاب کے فیصلہ کو بدل کر رحمت نازل نہیں کر سکتا بلکہ وہ نعوذ باللہ مجبور ہے کہ اپنے پہلے فیصلہ کے مطابق عمل کرے۔آپ نے اس مسئلہ کو بھی عقل اور نقل ہر دولحاظ سے صاف کیا اور ثابت کر دیا کہ یہ جھوٹا عقیدہ خدا کی قدرت کاملہ اور اس کی وسیع رحمت ہر دو کے منافی ہے۔(دیکھو حضرت مرزا صاحب کی تصانیف انوار الاسلام - انجام آتھم۔نزول امسیح۔حقیقۃ الوحی وغیرہ ) اسی لئے خدا فرماتا ہے کہ:۔وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ پھر خدا کے متعلق یہ اختلاف تھا کہ گویا اس نے بنی اسرائیل اور بنی اسمعیل کے سوا کسی اور اُمت میں رسول نہیں بھیجا اور اپنی رحمت کے لئے بس انہی دو گروہوں کو مخصوص کر لیا۔مگر آپ نے بدلائل اس خیال کا باطل ہونا ظاہر کیا اور عقل اور نقل سے یہ بات ثابت کر دی کہ ہر امت نے خدا کے مکالمہ و مخاطبہ سے حصہ لیا ہے اور ہر امت میں اس کے رسول آتے رہے ہیں جیسا کہ قرآن فرماتا ہے کہ اِنْ مِنْ أُمَّةِ الَا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ چنانچہ آپ نے ہندوؤں کے کرشن۔بدھ مذہب کے گوتم بدھ۔اہل چین کے کنفیوشس اور پارسیوں کے زرتشت کی رسالت کا بھی اقرار کیا اور بین الاقوام تعلقات میں ایک انقلابی صورت پیدا کر دی۔(دیکھو حضرت مرزا صاحب کا لیکچر وچھو والی لاہور وچشمہ معرفت در سالہ پیغام صلح ) پھر خدا کے الہام کے متعلق یہ اختلاف تھا کہ الہام الہی الفاظ میں نہیں ہوتا بلکہ صرف ایک 107