تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 82 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 82

اور گارڈ ہیں جو ریل کے انتہائی کناروں پر متعین ہوتے ہیں۔اور کانوں کے درمیانی فاصلہ سے گویا ریل کا طول مراد ہے۔جو اوسطاً ستر ہاتھ کا ہوا کرتا ہے اب دیکھو کہ کس طرح یہ تمام باتیں مغربی اقوام میں پائی جاتی ہیں اور یہ جو کہا گیا کہ دجال آخری زمانہ میں خروج کرے گا تو اس سے یہ مراد ہے کہ گو وہ پہلے سے موجود ہوگا جیسا کہ بعض احادیث میں بھی اشارہ پایا جاتا ہے مگر پہلے وہ اپنے وطن میں گویا محصور ہوگا، لیکن قیامت کے قریب وہ زور کے ساتھ باہر نکلے گا اور روئے زمین پر چھا جائے گا۔سو بعینہ اسی طرح ہوا کہ مغربی قومیں پہلے اپنے وطن میں سوئی پڑی تھیں مگر اب بیدار ہو کر تمام روئے زمین پر چھا گئی ہیں۔یہ کہنا کہ دجال کو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فرد واحد کی شکل میں دیکھا تھا پس وہ ایک جماعت کی صورت میں کس طرح مانا جا سکتا ہے ایک باطل شبہ ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نظارے بصورت کشف اور خواب دیکھے تھے جیسا کہ مثلاً حدیث بخاری کے الفاظ بينما انا نائم اطوف بالكعبة - ( بخاری جلد دوم طبع مصری صفحہ ۱۷۱) یعنی ”میں نے سوتے ہوئے خواب میں کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا“ سے ظاہر ہے اور ظاہر ہے کہ خواب عموماً تاویل طلب ہوتی ہے اور اس میں کئی دفعہ ایک فرد دکھایا جاتا ہے مگر مراد ایک جماعت ہوتی ہے۔مثلاً سورۃ یوسف میں مذکور ہے کہ عزیز مصر نے سات سالہ قحط کے متعلق سات ڈبلی گائیں دیکھیں جس کی تعبیر جیسا کہ حضرت یوسف نے خود بیان کیا ہے یہ تھی کہ ایک گائے ایک سال کے تمام مویشیوں بلکہ تمام جانداروں کی قائم مقام تھی اور اس کا دبلا ہونا قحط کوظاہر کرتا تھا اور سات دُبلی گایوں کا ہونا سات سالہ قحط کو ظاہر کرتا تھا۔گویا ایک گائے تمام مویشیوں کے قائم مقام کے طور پر دکھائی گئی۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کا نظارہ ایک آدمی کی شکل میں دکھایا گیا جو خوابوں کی تصویری زبان کے عین مطابق ہے۔بہر حال ہمارے اس دعوی کے دلائل کہ دجال سے ایک فرد مراد نہیں بلکہ ایک کثیر التعداد گر وہ مراد ہے جو اس زمانہ میں مسیحی اقوام کی صورت میں ظاہر ہوا ہے یہ ہیں :- (۱) لغت میں دجال ایک بڑی جماعت کو کہتے ہیں۔پس وہ ایک فرد نہیں ہوسکتا۔(۲) جو فتنے دجال کی طرف منسوب کئے گئے ہیں اور جو طاقتیں اس کے اندر بیان کی گئی 82