تبلیغِ ہدایت — Page 66
قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيّ ( سورة بقرة ۳۴۶) یعنی دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہدایت ضلالت سے ممتاز ہو چکی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ دین کے معاملہ میں جبر کرنا جائز نہیں اور چونکہ قرآن شریف ہر ایک دعوی کے ساتھ دلیل بھی لاتا ہے اس لئے اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ جبر اس لئے جائز نہیں کہ ہدایت اور ضلالت کھلی کھلی چیزیں ہیں اور ہر ایک شخص جو ٹھنڈے دل سے غور کرے وہ ہدایت کو دیکھ سکتا ہے ظاہر ہے کہ جبر کی ضرورت اسی جگہ پیش آتی ہے کہ جہاں کوئی تعلیم ناقص ہو اور اپنی خوبی کے زور سے لوگوں کے دلوں کے اندر گھر نہ کر سکے لیکن قرآن شریف کی تعلیم تو سبحان اللہ ایسی صاف اور روشن ہے کہ ذرا سے تدبر سے انسان حق کو پاسکتا ہے۔اس لئے اس کے منوانے کے لئے جبر کا طریق کسی طرح بھی درست نہیں سمجھا جا سکتا۔علاوہ ازیں غور کرو کہ تلوار کے زور سے لوگوں کو اسلام کے اندر داخل کرنے کے یہ معنے ہیں کہ ہم صاف لفظوں میں اقرار کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ اسلام جھوٹا ہے یا کم از کم یہ کہ اسلام اس خوبی کا مذہب نہیں کہ خود بخو دلوگوں کو اپنی سچائی کا قائل کر سکے تبھی تو جبر کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔پھر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جبر کی حکومت صرف انسان کے جسم تک محدود ہوتی ہے اس کے ذریعہ انسان کی روح اور خیالات پر قابو نہیں پایا جا سکتا مگر مذہب دل کے خیالات سے تعلق رکھتا ہے اور گو اعمال بھی اسکے اندر شامل ہیں مگر اعمال کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ دل کی تحریک سے پیدا ہوں۔ورنہ اگر وہ کسی بیرونی اثر کے ماتحت ظہور میں آئیں اور دل ان کے ساتھ متفق نہ ہو تو ایسے اعمال ہر گز مذہب کا حصہ نہیں سمجھے جا سکتے بلکہ انہیں مذہب کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں مثلاً خدا کے حضور سجدہ کرنا نیک اعمال میں سے ہے، لیکن اگر کوئی شخص بازار میں چلتا ہوا ٹھوکر کھا کر منہ کے بل جا گرے تو گو ظاہری صورت اس کی سجدہ کر نیوالے کی سی ہوگی لیکن مذہب کی اصطلاح میں وہ خدا کے حضور سجدہ کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ اس سجدہ کے ساتھ دل کی تحریک اور نیت شامل نہیں ہے بلکہ یہ صورت صرف کسی بیرونی اثر کے ماتحت پیدا ہوگئی ہے۔پس ظاہری حرکات وہی مذہب کے اندر شامل سمجھی جاسکتی ہیں جو دل کی نیت کے ساتھ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ سرور 66