تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 58 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 58

شک جو احادیث مہدی کو کسی خاص قوم کے ساتھ مخصوص کرتی ہیں اُن کے متعلق یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ وہ بعد میں وضع کر لی گئی ہیں۔پس اس اختلاف کے پیش نظر ہمارا یہ فرض ہونا چاہئے کہ ہم مہدی کو کسی خاص قوم سے نہ قرار دیں بلکہ مجملا صرف اس بات پر ایمان رکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے مہدی کی پیشگوئی فرمائی ہے جو آپ کی امت میں سے آخری زمانہ میں ہوگا۔اسی میں ہماری خیر ہے اور یہی احتیاط کا رستہ ہے کیونکہ اگر ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ مہدی حضرت فاطمہ کی اولاد سے ظاہر ہوگا اور آخر کار وہ بنی عباس سے ظاہر ہو جائے تو ہمارا یہ اعتقاد ہمارے راستہ میں بڑی روک ہو جائے گا اور ہم مہدی پر ایمان لانے سے محروم ہو جائیں گے۔اسی طرح اگر ہم یہ ایمان رکھیں کہ مہدی بنی عباس سے ہوگا لیکن وہ حضرت فاطمہ کی اولاد سے پیدا ہو جائے یا حضرت عمر کی نسل سے ظاہر ہو جاوے تو ہم اس پر ایمان لانے سے محروم ہو جائیں گے۔پس اور نہیں تو کم از کم اپنا ایمان بچانے کے لئے ہی ہمیں چاہئے کہ مہدی کو کسی خاص قوم میں سے نہ ٹھہرائیں بلکہ صرف یہ ایمان رکھیں کہ مہدی امت محمدیہ میں سے ظاہر ہوگا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام اور متبعین میں سے ہوگا اور بس۔ایسا ایمان رکھتے ہوئے ہم بالکل امن میں ہونگے اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی مہدی کو کسی خاص قوم ہی سے قرار دیا ہے تو پھر بھی کوئی حرج لازم نہیں آئے گا۔کیونکہ جزو بہر حال گل کے اندر شامل ہوتا ہے۔ایک اور بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ گومہدی کے نام اور اس کے باپ کے نام کے متعلق اختلاف ہے لیکن پھر بھی زیادہ غالب مذہب یہی رہا ہے کہ مہدی کا نام محمد ہوگا اور مہدی کے باپ کا نام عبداللہ ہوگا اور دراصل اس کی تائید میں جو روایات ہیں وہ بھی گوجرح قدح سے پاک نہیں لیکن دوسری روایات سے پھر بھی اصول روایت کے لحاظ سے زیادہ وزن دار ہیں۔پس اگر ہم اس قول کو ترجیح دیں تو بعید از انصاف نہیں، لیکن اس صورت میں بھی حضرت مرزا صاحب کے دعوئی پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔کیونکہ سورہ جمعہ کی آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری زمانہ میں ایک اور قوم کی بھی روحانی تربیت 58