تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 20 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 20

دوسرے عام حالات میں مجرد عقل ہر حال میں کوئی یقینی اور قطعی معیار بھی نہیں ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ عقل ایک بے فائدہ چیز ہے کیونکہ لاریب عقل بھی خدا نے انسان کو بطور چراغ کے عطا کی ہے جس کی روشنی اس کو حق اور راستی کی طرف کھینچتی ہے اور کئی طرح کے شکوک اور شبہات سے بچاتی ہے اور انواع و اقسام کے بے بنیا د خیالوں اور بے جا وساوس کو دور کرتی ہے۔نہایت مفید ہے۔بہت ضروری ہے۔بڑی نعمت ہے مگر پھر بھی باوجود ان سب باتوں اور ان تمام صفتوں کے اس میں یہ نقص کا پہلو موجود ہے کہ صرف وہی اکیلی حقائق اشیاء کی معرفت میں یقین کامل کے مرتبہ تک نہیں پہنچا سکتی۔یہ مرتبہ عقل کو تب حاصل ہوتا ہے کہ جب عقل کے ساتھ کوئی دوسرا ایسا رفیق مل جاتا ہے کہ جو اس کی قیاسی وجوہات کو تصدیق کر کے واقعات مشہودہ کا لباس پہناتا ہے اور وہ رفیق عقل جو اس کے یارو مددگار ہیں ہر مقام اور ہر موقع میں الگ الگ ہیں لیکن از روئے حصر عقلی تین سے زیادہ نہیں اور ان تینوں کی تفصیل اس طرح پر ہے کہ اگر حکم عقل کا دنیا کے محسوسات اور مشہودات سے متعلق ہو تو اس وقت رفیق اس کا جو اس کے حکم کو یقین کامل تک پہنچا سکتا ہے۔مشاہدہ صحیحہ ہے کہ جس کا نام تجربہ ہے اور اگر حکم عقل کا ان حوادث اور واقعات سے متعلق ہو جو مختلف از منہ اور امکنہ میں صدور پاتے رہے ہیں یا صدور پاتے ہیں تو اس وقت اس کا ایک اور رفیق بنتا ہے کہ جس کا نام تواریخ ہے کہ وہ بھی تجربہ کی طرح عقل کی دود آمیز روشنی کو ایسا مصفا کر دیتا ہے کہ پھر اس میں شک کرنا ایک حمق اور جنون اور سودا ہوتا ہے اور اگر حکم عقل کا اُن واقعات سے متعلق ہو جو ماوراء المحسوسات ہیں جن کو نہ ہمارے حواس ظاہری معلوم کر سکتے اور نہ ہم ان کو اس دنیا کی تواریخ سے دریافت کر سکتے ہیں تو اس کا ایک تیسرا رفیق بنتا ہے۔جس کا نام الہام اور وحی ہے۔(ماخوذ از براہین احمدیہ مصنفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) غرض تحقیق کے یہی دو طریق ہیں۔یعنی ایک معقولی طریق اور دوسرا منقولی طریق لیکن ان دونوں کے متعلق یہ یا درکھنا نہایت ضروری ہے کہ ان طریقوں کو استعمال کر کے انسان تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے کہ غور کرنے سے پہلے انسان بالکل مخفی بالطبع ہو جائے اور مدعی کی تصدیق و تکذیب کے خیالات کو کلیہ اپنے دل سے نکال دے اور ایسے خیالات و جذبات و عناصر کو اپنے 20