تبلیغِ ہدایت — Page 245
یعنی مطلق نبوت ختم نہیں ہوئی بلکہ صرف شریعت والی نبوت بند ہوئی ہے۔“ حضرت امام محمد طاہر صاحب (وفات ۹۸۶ ہجری) مصنف مجمع الجار جو اپنے زمانہ کے امام تھے فرماتے ہیں :۔هذا ناظر الى نزول عيسى وهذا ايضا لا ينافي حديث لا نبي بعدی لانه اراد لا نبی ینسخ شرعه تکملہ مجمع البحار صفحه ۸۵) یعنی ” حضرت عائشہ نے یہ جو فرمایا ہے کہ اے مسلمانو! تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خاتم النبیین کے الفاظ استعمال کیا کرو اور لا نبي بعدہ نہ کہا کرو تو یہ حضرت عائشہ نے مسیح موعود کے نزول کو مد نظر رکھ کر کہا ہے اور حضرت عائشہ کا یہ قول حدیث لا نبی بعدی کے خلاف نہیں ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی مراد تھی کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو میری شریعت کو منسوخ کرے۔“ فرقہ حنفیہ کے جلیل القدر امام حضرت ملاعلی قاریؒ (وفات ۱۰۱۴ ہجری) فرماتے ہیں:- لوعاش ابراهيم وصار نبيًّا وكذالك لوصار عمر نبيا لكان من اتباعه عليه السلام۔۔۔۔فلا يناقض قوله خاتم النبيّن اذا المعنى انه لا يأتي نبي بعده ينسخ ملته ولم يكن من أمته ( موضوعات کبیر صفحه ۵۹،۵۸) یعنی اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے یا اگر عمر نبی ہو جاتے تو وہ دونوں آپ کے متبعین میں سے ہوتے۔پس اُن کا نبی ہونا خدا کے قول خاتم النبین کے مخالف نہ ہوتا۔کیونکہ خاتم النبین کے یہی معنے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔“ حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجد دالف ثانی (وفات ۱۰۳۴ھ ) جو ایک عظیم الشان مجد دمانے گئے ہیں فرماتے ہیں :- حصول کمالات نبوت مرتا بعاں را بطریق تبعیت و وراثت بعد از 245