تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 230 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 230

اور یہ پیشگوئی کہ مسیح موعود بعد وفات کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں داخل ہوگا اس کے یہ معنے کرنا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھودی جائے گی یہ جسمانی خیال کے لوگوں کی غلطیاں ہیں جو گستاخی اور بے ادبی سے بھری ہوئی ہیں۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ مسیح موعود مقام قرب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر قریب ہوگا کہ موت کے بعد وہ اس رتبہ کو پائے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کا رتبہ اُس کو ملے گا اور اس کی روح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوح سے جاملے گی گویا کہ ایک ہی قبر میں ہیں۔اصل معنے یہی ہیں جس کا جی چاہے دوسرے معنے کرے۔اس بات کو رُوحانی لوگ جانتے ہیں کہ موت کے بعد جسمانی قرب کچھ حقیقت نہیں رکھتا ہے بلکہ ہر ایک جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رُوحانی قرب رکھتا ہے اُس کی رُوح آپ کی رُوح سے نزدیک کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَادْخُلِي فِي عِبَادِی وَادْخُلِي جَنَّتِي اور یہ پیشگوئی کہ وہ قتل نہیں کیا جاوے گا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خاتم الخلفاء کا قتل ہونا موجب ہتک اسلام ہے۔اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی قتل سے بچائے گئے۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۰۷ تا ۳۱۳) حضرت مرزا صاحب کا نبوت کا دعویٰ ختم نبوت کے متعلق ہمارا عقیدہ چونکہ حضرت مرزا صاحب بانی سلسلہ احمدیہ کے دعاوی کی بحث میں ختم نبوت کا مسئلہ بھی شامل ہے کیونکہ حضرت مرزا صاحب نے مسیحیت اور مہدویت کے ساتھ ساتھ ظلی نبوت کا بھی دعوی کیا تھا جو آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اور آپ کے بروز ہونے کی حیثیت سے حاصل کی تھی اس لئے اس رسالہ میں اس کے متعلق بھی مختصر طور پر لکھا جانا ضروری ہے تا حق کے متلاشیوں کے لئے موجب ہدایت ہو۔سو جاننا چاہئے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ جیسا قرآن 230