تبلیغِ ہدایت — Page 226
اور مسیح موعود کا ایسا دکھائی دینا کہ گویا وہ حمام سے غسل کر کے نکلا ہے اور موتیوں کے دانوں کی طرح آپ غسل کے قطرے اس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں۔اس کشف کے معنے یہ ہیں کہ مسیح موعودا اپنی بار بار کی تو بہ اور تضرع سے اپنے اس تعلق کو جو اُس کو خدا کے ساتھ ہے تازہ کرتارہے گا گویا وہ ہر وقت غسل کرتا ہے اور اس پاک غسل کے قطرے موتیوں کی طرح اس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں۔یہ نہیں کہ انسانی سرشت کے برخلاف اُس میں کوئی خارق عادت امر ہے۔ہر گز نہیں۔ہرگز نہیں۔کیالوگوں نے اس سے پہلے خارق عادت امر کا عیسی بن مریم میں نتیجہ نہیں دیکھ لیا ؟ جس نے کر وڑ ہا انسانوں کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنادیا تو کیا اب بھی یہ شوق باقی ہے کہ انسانی عادت کے برخلاف عیسی آسمان سے اُترے فرشتے بھی ساتھ ہوں اور وہ اپنے منہ کی پھونک سے لوگوں کو ہلاک کرے اور موتیوں کی طرح قطرے اس کے بدن سے ٹپکتے ہوں غرض مسیح موعود کے بدن سے موتیوں کی طرح قطرے ٹپکنے کے معنے جو میں نے لکھے ہیں وہی صحیح ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے کڑے دیکھے تھے تو کیا اُس سے کڑے ہی مراد تھے؟ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گائیاں ذبح ہوتے دیکھیں تو کیا اس سے گائیاں ہی مراد تھیں؟ ہرگز نہیں۔بلکہ اُن کے اور معانی تھے۔پس اسی طرح مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اس رنگ میں دیکھنا کہ گویا وہ غسل کر کے آتا ہے اور غسل کے قطرے موتیوں کی طرح اس کے سر سے ٹپکتے ہیں اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ بہت تو بہ کرنے والا اور رجوع کرنے والا ہوگا اور ہمیشہ اس کا تعلق خدا تعالیٰ سے تازہ بتازہ رہے گا گویا وہ ہر وقت غسل کرتا ہے اور پاک رجوع کے پاک قطرے موتیوں کے دانوں کی طرح اس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں۔ایک دوسری حدیث میں بھی خدا کی طرف رجوع کرنے کو غسل سے مشابہت دی گئی ہے۔جیسا کہ نماز کی خوبیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کے گھر کے دروازے کے آگے نہر ہو اور وہ پانچ وقت اس نہر میں غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر میل رہ سکتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں۔تب آپ نے فرمایا کہ اسی طرح جو شخص پانچ وقت نماز پڑھتا ہے( جو جامع توبہ واستغفار اور دُعا اور تفرع اور نیاز اور تحمید اور تسبیح ہے ) اس کے نفس پر بھی گناہوں کی میل نہیں رہ سکتی۔گویا وہ پانچ 226