تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 219 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 219

اس کے علاوہ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ احادیث میں مسیح موعود کا نام مگم وعدل رکھا گیا ہے۔(دیکھو بخاری ) حکم کے معنے ہیں اختلافات میں فیصلہ کرنے والا اور عدل کے معنے ہیں ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا گویا جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے مسیح موعود کے بڑے کاموں میں سے ایک کام حکم بنا یعنی اختلافات میں فیصلہ کرنا بھی تھا۔اور اُس کو عدل قرار دے کر یہ بھی ظاہر کر دیا گیا تھا کہ وہ صحیح صحیح فیصلہ کرنے والا ہو گا جس کے یہ معنے تھے کہ اس زمانے میں امت محمدیہ میں بہت سے اختلافات پیدا ہو چکے ہونگے اور مسیح موعود اُن سب اختلافات کا سچا سچا فیصلہ کرے گا۔پس جبکہ مسیح موعود کی علامات کے بارے میں بھی اختلاف تھا تو ضرور تھا کہ وہ بحیثیت حكم و عدل کے ان مختلف روایات کا بھی فیصلہ کرے جو اُس کے لئے علامات کے طور پر سمجھی گئی تھیں۔اور ان میں سے بعض کو صحیح قرار دے اور بعض کو غلط۔افسوس کہ تم مسیح موعود کو حکم و عدل مانتے ہوئے پھر اُسے اتنا مرتبہ بھی نہیں دیتے کہ وہ عام محدثین کی طرح بعض روایات کو کمزور قرار دے اور بعض کو قوی ؟ تم محدثین کے متعلق مانتے ہو کہ اُن کو یہ حق تھا کہ وہ اپنے علم سے بعض روایات کو ضعیف یا غیر صحیح قرار دیں اور بعض کو قوی اور صحیح۔اور تم آج تک عملاً ان کے فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے رہے ہو۔لیکن وہ شخص جو خدا کی طرف سے مامور ہوکر آنے والا ہے اور جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ حکم و عدل ہوگا اُس کا تم یہ حق تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ وہ قوی وضعیف اور درست و نا درست روایتوں میں فیصلہ کرے اور اس کے فیصلہ کو قبول کرنا تمہیں منظور نہیں ! اے ہمارے نادان دوستو ! اگر مسیح موعود تمہارے سب رطب و یابس کے ذخیرہ کو قبول کر کے ایک مقلد محض کی طرح تمہارے مولویوں کے سامنے دوزانو ہوکر بیٹھار ہے اور کوئی ایک کلمہ بھی ایسا زبان پر نہ لائے جو کسی مولوی یا کسی عالم حدیث کی رائے اور تحقیق کے خلاف ہو تو پھر وہ جگم و عدل کیسا ہوا ؟ اور اُس کے آنے کا فائدہ ہی کیا ہوا؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ مسیح موعود اس لئے آئے گا کہ کبھی ایک مولوی کے پاؤں پر گرے اور کبھی دوسرے کے سامنے دوزانو ہو اور کبھی تیسرے کے آگے ہاتھ باندھے اور اس کو ایک ذرہ اختیار نہ ہوگا کہ وہ کوئی کلمہ ان حضرات مولویان کے خلاف منہ پر لائے۔اے افسوس ! دل مر گئے اور آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔219