تبلیغِ ہدایت — Page 194
ہے اور یقین سے دُور ہوتا ہے اور آپ نے بار بار لکھا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کو سچا اور کامل یقین حاصل ہو اور پھر اس حالت میں وہ گناہ کا مرتکب بھی ہو۔آپ نے لکھا کہ کیا انسان اس بل میں ہاتھ ڈال سکتا ہے جس کے متعلق اسے یقین ہو کہ اس میں ایک زہریلا سانپ ہے؟ یا اس جھاڑی میں قدم رکھ سکتا ہے کہ جس کے متعلق اُسے پتہ ہو کہ اس کے اندر ایک شیر ہے؟ یا اُس چھت کے نیچے ٹھہر سکتا ہے کہ جس کے متعلق وہ جانتا ہو کہ وہ گرنے والی ہے؟ یا اُس گلاس کو منہ لگا سکتا ہے کہ جس کے متعلق اُسے علم ہو کہ اس میں ایک مہلک زہر ہے؟ ہرگز نہیں۔ہرگز نہیں تو پھر خدا پر ایمان اور اس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ اس سے دُوری اور اس کا غضب ایک آگ ہے جو میری حاشیہ صفحہ سابقہ:۔دعویٰ جو ہم نے متن میں بیان کیا ہے درست رہے گا۔یعنی یہ اصول پھر بھی قائم رہے گا کہ حقیقی ایمان انسان کو گناہ سے بچاتا ہے اور حقیقی ایمان رکھتے ہوئے کوئی شخص گناہ کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔دراصل بات یہ ہے کہ انسان کے اندرفطری طور پر بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے وہ بعض اوقات لغزش کھا جاتا ہے مگر ایک کامل مومن یعنی نبی اور دوسرے عام مومنوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ نبی ہر وقت حقیقی اور بچے ایمان پر قائم رہتا ہے اور کوئی ظلمت کا پردہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس کے ایمان کو مغلوب نہیں کر سکتا لیکن اس کے مقابل پر ایک عام مومن بعض اوقات سچا ایمان رکھتے ہوئے بھی عارضی طور پر کسی ظلمت کے پردہ کے نیچے آکر لغزش کھا جاتا ہے مگر اس کی یہ لغزش محض وقتی اور عارضی ہوتی ہے جس کے بعد وہ فورا سنبھل کر پھر خدا کے سامنے استوار کھڑا ہو جاتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک عمدہ گھوڑا بھی بعض اوقات ناخن لے کر ٹھوکر کھا جاتا ہے مگر وہ گرتا نہیں بلکہ ناخن لیتے ہی پھر سنبھل جاتا ہے اور سوار کو نقصان نہیں پہنچاتا۔مگر ایک دوسرا گھوڑا اس سے بھی اعلیٰ ہوتا ہے جو ناخن لیتا ہی نہیں یا اس کی مثال یوں سمجھنی چاہئے کہ جیسے ایک اچھے پہر ادار کو بھی کسی وقت اونگھ آکر نیند آجاتی ہے مگر اس کے بعد وہ فورا سنبھل جاتا ہے اور عام طور پر وہ بہت ہوشیار اور چوکس رہتا ہے مگر اس کے مقابل پر انبیاء کی جماعت ایک ایسے پہر اداروں کی جماعت ہے جو اپنی ڈیوٹی پر کبھی بھی نہیں سوتی اور ہر وقت بیدار اور ہوشیار رہتی ہے لیکن ایک تیسر ا گر وہ ایسا ہوتا ہے جو ہر وقت یا اکثر وقت سوتا ہی رہتا ہے یہ وہ گروہ ہے جو غیر مومنوں کا گروہ ہے یا گھوڑے کی مثال لیکر کہہ سکتے ہیں کہ غیر مومنوں کا گروہ اس گھوڑے کی مانند ہے جو راستہ پر چلتے ہوئے اکثر ناخن لیتا ہے اور ناخن بھی ایسا سخت لیتا ہے کہ زمین پر گر جاتا ہے اور اپنے سوار کو بھی زخمی کرتا ہے ان مثالوں سے ظاہر ہے کہ سچے مومن کی اصل حالت تو گناہ سے محفوظ رہنے کی حالت ے مگر کبھی کبھی وہ اونگھ کر س بھی جاتاہے اور یہ حالت وہ ہے جب اس کے ایمان پر کسی عارضی ظلمت کا پردہ آجاتا ہے پس دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست رہیں۔یعنی یہ بات بھی درست ہے کہ سچا اور حقیقی ایمان ہی وہ چیز ہے جو گناہ سے محفوظ رکھتا ہے اور یہ کہ ایک سچے مومن کی علامت ہے کہ 194