تبلیغِ ہدایت — Page 188
اے خدا اپنے طالبوں کے رہنما۔ان پر اپنی ذات سے ان کے ماں باپ سے تمام جہان کے مشفقوں سے زیادہ رحم فرما تو اس کتاب کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے اور اس کے برکات سے ان کو مالا مال کر دے اور کسی اپنے صالح بندے کے طفیل اس خاکسار شرمسار گنہگار کو اپنے فیوض اور انعامات اور اس کتاب کے اخص برکات سے فیضیاب کر۔آمین۔وللارض من كأس الكرام نصيب"۔دیکھو اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبرے جلدے نمبر ۱۱) غالباً اس بات کے بتانے کی اس جگہ ضرورت نہیں کہ جب حضرت مرزا صاحب کی طرف سے دعوی مسیحیت شائع ہوا تو یہی مولوی محمد حسین صاحب سب سے پہلے فتوای تکفیر لے کر ملک میں ادھر اُدھر دوڑے اور حضرت مرزا صاحب کو دجال کا فر ملحد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ع بیں تفاوت ره از کجا است تا به کجا دوسری رائے جو میں اس جگہ درج کرنا چاہتا ہوں وہ امرتسر کے مشہور و معروف غیر احمدی اخبار وکیل کی رائے ہے جس کا اُس نے حضرت مرزا صاحب کی وفات پر اظہار کیا اور وہ یہ ہے:۔وہ شخص۔بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔وہ شخص جود ما فی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تارا لجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا جو شور قیامت ہو کے خفتگانِ خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔خالی ہاتھ دنیا سے اُٹھ گیا۔( خالی ہاتھ مت کہو وہ ہدایت کا تحفہ لیکر آیا اور عقیدت کے پھول لیکر گیا۔مصنف رسالہ هذا) ( یعنی دنیا نے اُس کی قدر نہیں کی ) مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔۔۔۔۔مرزا صاحب کی اس رحلت نے ان کے بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا 188