تبلیغِ ہدایت — Page 145
عذاب ہو مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص (یعنی ایسی قسم کھانے والا ) ایک برس تک میری بددعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں اور اس سزا کے لائق کہ ایک قاتل کے لئے ہونی چاہئے۔اب اگر کوئی بہادر کلیجہ والا آریہ ہے جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑا دے تو اس طریق کو اختیار کرے۔( دیکھو اشتہار مورخہ ۱۵ / مارچ ۱۸۹۷ء) ناظرین دیکھیں کہ یہ کیسا صحیح طریق فیصلہ تھا جو آریوں کے سامنے پیش کیا گیا اور دوسرے اشتہار میں حضرت مرزا صاحب نے ایسے شخص کے لئے اگر وہ ایک برس کے عرصہ میں مذکورہ طریق پر قسم کھا کر ہلاک نہ ہو دس ہزار روپے کا انعام بھی مقرر کیا اور یہ بھی منظور کیا کہ اس صورت میں بے شک آپ کو مجرموں کی طرح پھانسی دی جاوے اور پھر آپ کی لاش شخص مذکور کے حوالے کر دی جاوے وغیرہ وغیرہ۔(دیکھو اشتہار مورخہ ۱/۵ پریل ۱۸۹۷ء) مگر کوئی آریہ میدانِ مقابلہ میں نہ آیا اور صرف دُور کی گیدڑ بھبکیوں سے اپنا جی خوش کرتے رہے۔سبحان اللہ ! یہ کیس عظیم الشان نشان تھا جو صداقت اسلام اور بطلان مذہب آریہ میں ظاہر ہوا گو یا ہدایت کے آفتاب نے طلوع کیا مگر افسوس ہے کہ اندھی دنیا اس سورج کی کرنوں کو نہ دیکھ سکی۔اور قتل کا شبہ کرنا کیسی جہالت کیسی حماقت ہے! نادانو! فرض کرلو کہ پنڈت لیکھر ام حضرت مرزا صاحب ہی کی سازش سے قتل ہوئے۔پھر کیا ہوا؟ کیا اس سے پیشگوئی کی صداقت میں کوئی فرق آجاتا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ دونوں نے خدا سے فیصلہ چاہا تھا اور دونوں نے دُعا کی تھی کہ جھوٹا تباہ ہو اور نیچے کی عزبات ظاہر ہو اور دونوں نے ایک دوسرے کی ہلاکت کی پیشگوئی کی تھی اور دونوں نے اپنے مذہب کی سچائی اس مباہلہ کے نتیجے پر مبنی قرار دی تھی ؟ تو اگر با وجود ان ساری باتوں کے مرزا صاحب کا انسانی حربہ پنڈت لیکھرام پر چل گیا تو کیا یہ ثابت نہ ہوا کہ حضرت مرزا صاحب کا خدا تو ایک دُور کی بات ہے ) خود مرزا صاحب بھی آریوں کے خدا سے زیادہ طاقتور ہیں کہ باوجود اس علم کے کہ میرے خاص بندے لیکھرام نے مجھ سے فیصلہ چاہا ہے اور میرے دین کی سچائی اس فیصلہ پر منحصر ہے کہ لیکھرام محفوظ رہے اور مرزا صاحب ہلاک ہو جائیں اور ایک دنیا اس فیصلے کی 145