سیدنا بلالؓ — Page 14
سیدنا بلال 23 حضرت عمر بھی مسلمان ہو گئے حضرت عمر بھی مسلمان ہو گئے مذہب بنالیا ہے۔ہمارے معبودوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ان میں سے کچھ لوگ وہاں سے بھاگ کر آپ کے ملک میں آگئے ہیں۔آپ حکم دیں کہ ہم انہیں واپس لے جاسکیں“۔بادشاہ نے جواب دیا میں یونہی تو انہیں واپس نہیں کر سکتا۔یہ لوگ میری پناہ میں ہیں۔میں ان کی بات سن کر فیصلہ کروں گا۔اگلے دن بادشاہ نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلایا ان سے پوچھا کہ بتاؤ یہ کیا قصہ ہے۔ان مسلمانوں میں ابوطالب کے بیٹے جعفر طیار بھی تھے۔انہوں نے کہا۔”اے بادشاہ! بات یہ ہے کہ ہم لوگ جاہل تھے۔بتوں کی پوجا کرتے تھے۔برے کام کرتے تھے۔اپنے سے کمزوروں اور غریبوں پر ظلم کرتے تھے۔پھر خدا نے ہم میں ایک رسول بھیجا۔اس نے ہمیں ان برائیوں سے روکا اور نیک کام کرنے کو کہا۔ہمیں بتایا کہ خدا ایک ہے۔صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ہم نے اس کی باتیں سنیں وہ باتیں ہمیں اچھی لگیں ہم نے بتوں کو چھوڑ کر ایک خدا کی عبادت شروع کر دی اور برے کاموں سے توبہ کر لی۔اچھے کام کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔اس پر ہماری قوم ہماری دشمن ہوگئی اور ہمیں مارنے پیٹنے اور ہم پر ظلم کرنے لگی۔اے بادشاہ! اب ہم اس ظلم سے تنگ آ کر آپ کے ملک میں پناہ لینے آئے ہیں مگر انہوں نے یہاں بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔بادشاہ ساری بات سمجھ گیا۔اس نے جعفر سے کہا فکر نہ کرو تم میری پناہ میں ہو۔تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ہاں مجھے وہ کلام تو سناؤ جو تمہارے نبی پر اترا ہے۔جعفر نے سورۃ مریم کی آیات بادشاہ 24 سیدنا بلال کوسنا ئیں۔یہ آیتیں سن کر بادشاہ کے دل پر اتنا اثر ہوا کہ وہ رو پڑا۔اس نے کہا خدا کی قسم ! یہ تو ویسا ہی کلام ہے جیسا ہمارے نبی یسوع مسیح پر اترا تھا۔پھر بادشاہ نے قریش سے کہا جاؤ میرے ملک سے نکل جاؤ۔میں ان لوگوں کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔حضرت حمزہ مسلمان ہوتے ہیں ادھر مکہ میں مسلمانوں پر ظلم وستم اسی طرح جاری تھے۔ایک دن کی بات ہے کہ رسول اللہ صفا کی پہاڑی پر بیٹھے تھے۔ابو جہل کا وہاں سے گزر ہوا۔اس نے آتے ہی رسول اللہ کو گالیاں دینی اور برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔رسول اللہ چپ رہے اور ایک لفظ بھی جواب میں نہ کہا۔رسول اللہ کے چا حمزہ کی ایک خادمہ نے سارا واقعہ دیکھا۔تھوڑی دیر کے بعد حمزہ جو شکار کو گئے ہوئے تھے واپس آئے۔جب گھر پہنچے تو خادمہ نے کہا کہ آپ شکار کھیل رہے ہیں اور آپ کے پیچھے ابو جہل آیا تھا اور آپ کے بھتیجے کو گالیاں دیتے ہوئے ابھی یہاں سے گیا ہے۔محمد چپ کر کے سنتے رہے اور جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔یہ سن کر حمزہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور خادمہ سے پوچھا۔کیا یہ بات درست ہے؟ اس نے جواب دیا اس میں شک کی کوئی بات ہی نہیں سارا واقعہ میرے سامنے ہوا ہے۔یہ سنتے ہی حمزہ الٹے قدموں باہر نکلے اور خانہ کعبہ کی طرف چلے گئے۔جہاں ابو جہل اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔جاتے ہی زور سے اس کے سر پر اپنی کمان ماری اور کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے آج میرے بھتیجے کو گالیاں دی ہیں اور اس نے تمہیں جواب تک نہیں دیا یہ ان گالیوں کا جواب ہے۔یہ بھی سن لو کہ میں بھی آج سے محمد کے دین پر ہوں۔اس کا خدا میرا خدا ہے جو وہ کہتا ہے وہی میں کہتا ہوں۔ہمت ہے تو میرے سامنے آؤ۔ابو جہل کے ساتھی اس کی حمایت میں بولنے لگے مگر ابو جہل حمزہ کی بہادری اور جرات دیکھ کر ڈر گیا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر روک دیا کہ نہیں مجھ سے زیادتی ہوئی تھی۔حمزہ درست کہتے ہیں بات