سیدنا بلالؓ — Page 13
سیدنا بلال 21 مسلمانوں کی ہجرت حبشہ مقابلہ کریں گے۔اس لئے اپنے بھتیجے کو سمجھاؤ۔اس پر ابو طالب کو فکر ہوئی۔آپ نے رسول اللہ کو بلایا اور کہنے لگے میری ساری قوم میری مخالف ہو گئی ہے۔اب بہتر یہی ہے کہ تم یہ کام چھوڑ دو۔رسول اللہ کوئی اپنی مرضی سے تو یہ کام نہیں کر رہے تھے یہ خدا کا حکم تھاوہ اس کو پورا کرنے سے کیسے رک جاتے۔آپ نے کہا چا! اگر آپ ڈرتے ہیں تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی جو کام اللہ نے میرے سپرد کیا ہے اس سے نہیں رکوں گا۔جب ابو طالب نے رسول اللہ کا پکا ارادہ اور ہمت دیکھی تو کہا محمد جاؤا اپنا کام کرو جب تک میں زندہ ہوں تمہارے ساتھ ہوں۔ابو طالب سے مایوس ہو کر قریش نے فیصلہ کیا کہ ہر سردار اپنے خاندان میں سے مسلمان ہونے والے پر سختی کرے اور اسے مجبور کرے کہ وہ اسلام چھوڑ دے۔اس طرح مسلمانوں پر بہت سے ظلم شروع ہو گئے۔ان دنوں ہم پر کیا گزرتی تھی۔یہ دکھوں اور مصیبتوں کی ایک لمبی کہانی ہے۔یہ تو آنسوؤں کی داستان ہے کوئی ایسا ظلم نہ تھا جو ہم پر نہیں ہوا۔ہمیں رسیوں سے باندھ کر مارا جاتا تھا۔مکہ کی تپتی ہوئی پتھریلی زمین پر آوارہ لڑکے ہمیں گھسیٹتے پھرتے اور بڑے بڑے پتھروں کی سلیں ہماری چھاتی پر رکھ کر اوپر بیٹھ جاتے۔ہمارا کھانا بند کر دیا جاتا اور کہا جاتاجب تک اسلام نہیں چھوڑو گے تمہیں بھوکا رکھا جائے گا۔ظالموں نے ہمارے کئی مسلمان بھائیوں کو تکلیفیں دے دے کر شہید کر دیا۔مکہ کے سردار یوں تو بہت بہادر بنتے تھے مگر حال یہ تھا کہ بوڑھی مسلمان عورتیں بھی ان کے ظلم سے محفوظ نہ تھیں۔ہماری ایک بہن سمیہ کی آنکھوں کے سامنے اس کے خاوند کو شہید کر دیا پھر اس کو بھی اتنے زخم لگائے کہ اس نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔یہ باتیں مختصر بتا رہا ہوں تفصیل اس لئے نہیں بتا سکتا کہ مجھے اپنے شہید بہن اور بھائی یاد آ جاتے ہیں۔اور تو اور خود میرے آقا محمد بھی اس ظلم سے بچے ہوئے نہ تھے۔کبھی قریش ان کے گلے میں کپڑا ڈال کر دونوں طرف سے اتنا کھینچتے کہ آپ کا سانس گھٹنے لگتا۔کبھی نماز پڑھتے 22 سیدنا بلال حضرت حمزہ مسلمان ہوتے ہیں ہوئے آپ کے سر پر اونٹ کی اوجھڑی رکھ دیتے جو اتنی بھاری ہوتی کہ آپ سجدہ سے سر بھی نہ اٹھا سکتے۔آپ کو پتھر مارتے۔کبھی آپ کے گھر میں گند پھینکتے آپ کے دروازے پر کانٹے بچھا دیتے تا کہ باہر نکلنے میں تکلیف ہو جب اس پر بھی مسلمانوں نے اسلام کو نہ چھوڑا بلکہ ایک ایک دو دو کر کے کافر مسلمان ہونے لگے تو قریش کا غصہ اور ظلم مزید بڑھ گیا۔مسلمانوں کی ہجرت حبشہ مسلمانوں پر اتنا ظلم ہوتے دیکھ کر رسول اللہ نے سوچا کہ بہتر ہوگا کہ مسلمان مکہ سے باہر چلے جائیں اس کے لئے انہوں نے میرے ملک حبشہ کو پسند کیا اور کہا کہ اس ملک کا بادشاہ عدل اور انصاف کرنے والا ہے۔اس کے ملک میں ظلم نہیں ہوتا۔جو مسلمان جانا چاہیں وہ وہاں چلے جائیں۔پہلی دفعہ گیارہ مرد اور چار عورتوں پر مشتمل قافلہ حبشہ گیا۔ان جانے والوں میں سے بہت سے لوگ قریش کے طاقتور قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے اسی بات سے تم سمجھ گئے ہو گے کہ وہ مسلمان جوطاقتور قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی ظلم وستم سے محفوظ نہ تھے۔غلاموں یا غریبوں کے پاس تو جانے کے لئے سامان ہی نہ تھا وہ کیسے سفر کرتے۔اسی لئے میں بھی حبشہ نہ جاسکا۔یہ لوگ چھپ چھپ کر مکہ سے نکلے اور سمندر کی طرف چل پڑے۔جب شعیبیہ کی بندرگاہ پر پہنچے تو انہیں حبشہ جانے والا جہاز مل گیا اور وہ روانہ ہو گیا۔جب قریش کو پتہ چلا کہ کچھ مسلمان ان سے بیچ کر نکل گئے ہیں تو انہوں نے پیچھا کیا مگر اس وقت تک جہاز روانہ ہو چکا تھا۔قریش بھی آسانی سے ہار ماننے والے نہ تھے۔انہوں نے اپنے کچھ سرداروں کا وفد حبشہ بھجوایا۔یہ سردار وہاں کے پادریوں اور درباریوں سے ملے اور قیمتی تحفے دے کر ان میں سے کچھ کو اپنے ساتھ ملا لیا۔کچھ دن کے بعد یہ وفد بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا۔بادشاہ کو بہت سے تحفے پیش کئے اور عرض کی کہ ”ہمارے شہر کے کچھ لوگوں نے ملک میں فساد ڈال دیا ہے اور ایک نیا