سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 12 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 12

سیدنا بلال 19 تربیت کا سفر مسلمانوں کی ہجرت حبشہ 20 سیدنا بلال چاہیے۔آپ نے مجھے کہا اگر میں تمہیں قلم بنادوں تو لکھنا سیکھ لو گے؟ میں تمہاری مدد کروں گا۔یہ میری آزاد زندگی کا ایک بہت قیمتی لمحہ تھا۔میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ابوبکر مجھے لکھنا پڑھنا سکھائیں گے جو مکہ کے بڑے بڑے سرداروں کو بھی کم ہی آتا تھا۔اس طرح میں نے لکھنا پڑھنا شروع کیا۔ابوبکر مجھے قلم بنا دیتے میں سیاہی بناتا۔کبھی کھال پر لکھتا۔درختوں کی چھال پر لکھتا۔ہم دن میں پانچ نمازیں پڑھتے ہیں یہ بعد میں شروع ہوئیں اور روزے تو اور بھی بعد میں شروع ہوئے۔ہم یا تو اپنے اپنے گھروں میں یا شہر سے باہر کسی گھائی میں دو دو چار چارل کر نماز پڑھا کرتے تھے۔انہی دنوں ایک شخص ارقم نامی مسلمان ہوئے۔ان کا گھر شہر سے باہر تھا۔ہم سب وہاں جمع ہو جاتے۔رسول اللہ بھی وہاں آ جاتے تھے۔ہم وہاں نمازیں پڑھا کرتے۔رسول اللہ گیلی مٹی پر لکھتا۔چولہے کی بچی ہوئی راکھ زمین پر بچھا کرلکھتا اور تو اور میں ہوا میں انگلیوں سے لکھتا کی باتیں سنتے ان سے اسلام سیکھتے۔ہم اس گھر کو دارالاسلام کہا کرتے تھے۔اس وقت ہماری رہتا۔ابوبکر مجھے سبق دیتے۔میرے لکھے ہوئے کی اصلاح کرتے۔ایک دن عجیب بات ہوئی۔میں بیٹھا سیا ہی بنا رہا تھا کہ ابو بکر باہر سے آئے مجھے سیاہی بنا تا دیکھ کر ان کا چہرہ کھل اٹھا۔میرے سیاہی بھرے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے۔انہیں ایک لمحہ دیکھا اور پھر انہیں چوم لیا۔مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا اور کہنے لگے رسول اللہ کہتے ہیں۔عالم کے ہاتھ کی سیاہی شہید کے خون سے زیادہ قیمتی ہے۔ابوبکر وہاں سے چلے گئے میں سیاہی بنانے والے برتن کے پاس بیٹھا اور دیر تک اپنے سیاہی بھرے ہاتھوں اور انگلیوں کو دیکھتا رہا۔میرے ذہن میں عجیب عجیب خیال آئے۔میں سوچ رہا تھا کہ محمد بھی عجیب شخص ہے جس نے مجھے اتنا بلند کر دیا کہ ابو بکر نے میرے ہاتھ چومے۔میں دوسروں کی ٹھوکریں کھانے والا کالے رنگ کا غلام۔ابوبکر مکہ کے سردار۔میرا دل بھر آیا اور میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔اُن دنوں کے حالات میں نے مختصر ہی بیان کئے ہیں۔اگر تفصیل بتاؤں تو بات لمبی ہو جائے گی۔ہم مسلمان ابھی تعداد میں تھوڑے سے تھے۔اسلام کی تبلیغ بھی کھلم کھلا نہ کر سکتے تھے۔حضور ایسے لوگوں سے جو اسلام کے متعلق معلوم کرنا چاہتے گھر کے اندر ملتے یا شہر سے باہر کسی جگہ ملاقات کرتے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ ہمیں بھی ایک دوسرے کا پتہ نہ لگتا تھا۔کیونکہ اس وقت ہم اپنے مسلمان ہونے کا ذکر کسی سے نہ کرتے تھے۔ان دنوں اسلام صرف ایک اللہ پر ایمان لانا تھا۔جبرائیل نے شروع میں ہی رسول اللہ کو نماز اور وضو کا طریق تو سکھا دیا تھا مگر جس طرح آج مخالفت تو ہوتی تھی مگر چونکہ ہم تھوڑے تھے اس لئے اس میں شدت نہ تھی آہستہ آہستہ قریش کو خیال ہونے لگا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم لوگ ان کے لئے خطرہ بن جائیں اس لئے انہوں نے زور وشور سے ہماری مخالفت شروع کر دی۔دشمنی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مکہ والے بت پرست تھے اور رسول اللہ بت پرستی کے خلاف تھے وہ صرف ایک خدا کو عبادت کے قابل سمجھتے تھے۔پھر عرب اور خاص طور پر بڑے بڑے سرداروں کے لئے لوگوں پر ظلم کرنا، ڈاکے ڈالنا، شراب پینا، جو کھیلنا قتل کرنا ایک عام سی بات تھی۔جبکہ اسلام ان باتوں سے روکتا ہے۔اسلام میں کوئی غلام ہے نہ آقا، سب برابر ہیں۔اس لئے بھی سردار اسلام کے دشمن ہو گئے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ قرآن اگر خدا کا کلام ہے تو محمد کی بجائے مکہ کے کسی سردار پر کیوں نہیں اترا۔کتنے بڑے اور امیر سردار تھے۔مگر کتنے جاہل تھے کہ وہ چاہتے تھے کہ نعوذ باللہ خدا بھی ان کی مرضی پر چلے۔ان ساری باتوں کی وجہ سے وہ ہمیں تنگ کرتے رہتے اور ان کی کوشش تھی کہ اسلام کو ختم کر دیں۔ایک دفعہ ملکہ کے سردار مل کر رسول اللہ کے چچا ابو طالب کے پاس گئے کہ وہ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ اپنی باتیں بند کر دیں۔ابو طالب نے انہیں نرمی سے سمجھا کر واپس کر دیا۔دوسری دفعہ پھر کچھ سردار اکٹھے ہو کر آئے اور ابو طالب کو کہا کہ اگر محمد ان باتوں سے رک جائے تو ہم اسے اس کی خواہش کے مطابق مال دینے کو تیار ہیں۔اگر وہ سرداری چاہتے ہیں تو ہم انہیں اپنا سردار بنانے پر راضی ہیں۔انہوں نے دھمکی بھی دی کہ اگر محمد ان باتوں سے نہر کے تو ہم سب مل کر تمہارا