سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 615 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 615

615 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہوئی ننگی تلوار تھے۔اسلام اور احمدیت کے نڈر سپاہی تھے۔ان کے وجود سے احمدیت کی تاریخ کا ایک اہم باب وابستہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جماعت احمد یہ خلافت کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہ تھی۔اس وقت بعض ایسے افراد نے جو جماعت احمدیہ میں وجاہت رکھتے تھے۔لوگوں کی توجہ کو اس طرف پھیرنے کی کوشش کی کہ جماعت کو خلافت کی ضرورت نہیں۔مرحوم اس وقت ۲۰ سالہ نوجوان تھے اور جب آپ نے دیکھا کہ اس طرح ایک پھوڑا اندر ہی اندر پک رہا ہے تو آپ نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خلافت کے متعلق چند سوالات لکھ کر بھیجے۔غرض ی تھی کہ خلافت کا صحیح مقام لوگوں کے سامنے آ جائے۔وہ سوالات حضرت خلیفہ اول نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھیجے اور انہوں نے جو جواب دیا اس سے اس فتنہ کا پوری طرح علم ہو گیا جو اندر ہی اندر پرورش پا رہا تھا۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے ۳۱ جنوری ۱۹۰۹ء کا دن مقرر کر کے بیرونی جماعتوں سے نمائندے بلوائے اور اس طرح وہ پھوڑا چیرا گیا اور خلافت کے انوار و برکات کو لوگوں نے اچھی طرح سمجھ لیا۔اگر مرحوم یہ اقدام نہ کرتے تو عین ممکن تھا کہ جماعت کو بہت بڑا نقصان پہنچتا۔(۴) جناب ملک غلام فرید صاحب ایم اے ملک صاحب نے کہا کہ افسوس میر صاحب جو ہماری مجالس کی رونق اور کرسی صدارت کی زینت بنا کر تے تھے جن کی تقریر سننے کے لئے لوگ اس طرح کھنچے چلے آتے تھے جس طرح مقناطیس کی طرف لوہا کھنچا آتا ہے ہم سے جدا ہو گئے۔مرحوم بڑی عظمت کے مالک تھے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ماموں ہماری ماں سیدہ ام المومنین مدظلہ العالی کے بھائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے برادر نسبتی ہونے کے علاوہ حضور کے رضاعی بیٹے بھی تھے کیونکہ مرحوم نے حضرت ام المؤمنین کا دودھ پیا تھا۔مرحوم بہت بڑے خطیب اور مقرر تھے۔عرصہ ہوا میں نے ایک رسالہ میں ان لیکچراروں کی فہرست پڑھی جن کی تقریر کو شارٹ ہینڈ میں لکھنا ممکن نہیں ان میں اوّل مولوی محمد علی صاحب مرحوم اور دوسرے نمبر پر مرحوم میر صاحب کا نام تھا۔میں نے خود حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے سنا کہ کوئی قابل سے قابل آدمی بھی اگر قرآن کریم پر اعتراض کرے تو میں اسے دومنٹ میں خاموش کر سکتا ہوں ا اور مولانا محمد علی جو ہر مراد ہیں۔☆