سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 557
557 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بیت اور ذریات طیبہ جو خدا تعالیٰ کی بشارتوں اور وعدوں کے مصداق اور مبشر و موعود اور شعار اللہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو بھول گئے۔اف لكم ايها المفترون مصلح موعود کے متعلق کچھ اور اس کتاب کا یہ موضوع نہیں بلکہ اس پر اللہ تعالیٰ کی توفیق اور کرم سے ایک مفصل کتاب زیر تالیف ہے یہاں اس سلسلہ میں کہ حضرت اُم المؤمنین اطال اللہ عمر ہا کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ رسول جو موعود اقوام عالم ہے اور جس کی آمد و بعثت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آمد فرمایا اور امت کی حفاظت و صیانت کا اسے آخری حصار قرار دیا کی وعدہ کی زوجہ ہیں۔اس طرح خدا تعالیٰ کے وعدہ کی اولاد کی وہ ماں ہے وہ اولاد جو مبشر ہے اور اسی اولاد میں وہ عظیم الشان اولو العزم موجود بھی ہے جو خدا تعالیٰ کی الہامی بشارتوں میں مصلح موعود ہے۔چونکہ بعض وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کر کے خلافت راشدہ کو بھی قبول کر کے خلافت ثانیہ کے زمانہ میں انکار کر دیا اور مصلح موعود ہونے پر بھی اعتراض کیا ہے اس لئے میں یہاں ان سے بعض کے ان بیانات کو دے دینا چاہتا ہوں جو اختلاف سے پہلے وہ دے چکے ہیں۔عقلمند آدمی کے لئے ان سے نتیجہ نکالنا آسان ہے۔ا۔مرزا خدا بخش صاحب کی شہادت مرزا خدا بخش صاحب جھنگ کے رہنے والے تھے اور سلسلہ کے ابتدائی ایام میں انہیں حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ کی ملازمت کے سلسلہ میں حضرت اقدس کی خدمت میں رہنے کی سعادت حاصل تھی اور خدمات کا موقعہ ملا۔حضرت کی زندگی میں ان کو بعض تقوئی سے گرے ہوئے شبہات پیدا ہوئے تھے مگر وہ جماعت سے وابستہ رہے خلافت ثانیہ کے وقت وہ اپنے لا ہوری دوستوں کے ساتھ شریک ہو گئے اور اب کچھ عرصہ ہوا اس دنیا سے گزر گئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی ستاری فرمائے۔انہوں نے حضرت اقدس کی زندگی میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام عسل مصفی تھا اس میں انہوں نے مصلح موعودؓ کے متعلق یہ اقرار شائع کیا تھا کہ وہ موجودہ اولاد میں سے ایک ہے۔بعد میں