سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 491
491 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے مختصر نوٹوں کو بغرض توضیح درج کر دیا ہے۔حضرت میر محمد اسماعیل صاحب قبلہ نے بھی خصوصیت سے لکھا تھا کہ روایات درج کرنی ضروری ہیں اگر ایسا اشارہ نہ بھی ہوتا تب بھی میں روایات کا اندراج ضروری سمجھتا تھا اس لئے کہ اس سے خود حضرت اُم المؤمنین کی بصیرت اور سیرت پر روشنی پڑتی ہے۔( عرفانی کبیر ) روایات بسم الله الرحمن الرحيم ا۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ ان سے فرمایا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہ مجھے معلوم ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا فرمایا کہ بتایا گیا ہے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ سبحان الله وبحمده سبحان ا الله العظيم بہت پڑھنا چاہئے۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس وجہ سے آپ اُسے بہت کثرت سے پڑھتے تھے۔حتی کہ رات کو بستر پر کروٹ بدلتے ہوئے بھی یہی کلمہ آپ کی زبان پر ہوتا تھا۔بسم الله الرحمن الرحيم ۲۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عام طور پر ہر وقت باوضور ہتے تھے۔جب کبھی رفع حاجت سے فارغ ہو کر آتے تھے۔وضو کر لیتے تھے۔سوائے اس کے کہ بیماری یا کسی اور وجہ سے آپ رُک جاویں۔بسم الله الرحمن الرحيم ۳۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز پنجوقتہ کے سوا عام طور پر دو قسم کے نوافل پڑھا کرتے تھے۔ایک نماز اشراق ( دو یا چار رکعات) جو آپ کبھی کبھی پڑھتے تھے اور دوسرے نماز تہجد (آٹھ رکعات ) جو آپ ہمیشہ پڑھتے تھے۔سوائے اس کے کہ آپ زیادہ بیمار ہوں۔لیکن ایسی صورت میں بھی آپ تہجد کے وقت بستر پر لیٹے لیٹے ہی دعا مانگ لیتے تھے اور آخری عمر میں بوجہ کمزوری کے عموماً بیٹھ کر نماز تہجد ادا کرتے تھے۔بسم الله الرحمن الرحيم ۴۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر صبح کی نماز