سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 410 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 410

410 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کروٹ لوں تو اندھیرا معلوم ہو اور میں شور کرتی تو پھر حضرت صاحب روشنی کر دیتے کچھ عرصہ تک ایسا ہی رہا۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی عادت ہو گئی اور ظاہری تاریکی بھی روشنی سے بدل گئی اور سارے گھر میں ہر جگہ روشنی رہنے لگی ہر ایک کمرہ میں بیت الخلاء میں سڑھیوں پر غرض سارا گھر روشن ہو گیا اور ایک نوکر اس کام کے لئے رکھا گیا۔اماں جان اس وقت حضرت صاحب کو حضرت صاحب یا مرزا صاحب کے لفظ سے خطاب فرماتی تھیں۔چنانچہ اس روشنی کے معاملہ میں ایک مرتبہ فرمایا : حضرت صاحب وہ وقت یاد ہے جب آپ کو روشنی میں نیند نہیں آیا کرتی تھی اور اب اگر کونے کونے میں روشنی نہ ہو تو آپ کو نیند نہیں آتی۔حضرت صاحب یہ بات سن کر خوشی سے مسکرا پڑے۔(1) حضرت اماں جان اکثر دہلی کی زرین جوتی پہنا کرتی تھیں اور دن کے وقت بیت الدعا میں جا کر دعا کیا کرتی تھیں اور آپ کی زرین جوتی باہر دروازے پر ہونے سے ہم سمجھ جاتے کہ حضرت اماں جان اندر دعا کر رہی ہیں۔ایک مرتبہ حضرت اماں جان نے از راہ کرم و شفقت ایک ویسی ہی زرین جوتی مجھ کو بھی منگوا دی اور ایسا اتفاق ہوا کہ ایک دن موقعہ پا کر میں بیت الدعا میں دعا کرنے گئی اور میری زرین جوتی بھی باہر پڑی تھی۔دادی کو معلوم ہوا تو اسے بہت رنج ہوا کہ امتہ الرحمن کو ایسی قیمتی جوتی مل گئی۔حالانکہ اماں جان کا گھر خادمات سے بھرا ہوا تھا اور سب کی سب آپ کے حسن سلوک سے خوش اور شکر گزار تھیں کبھی کسی کو ناراض ہونے یا شکایت کا موقعہ ہی نہ آتا تھا۔سبحان الله - اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے کیسا پاکیزہ وجود پیدا کیا۔(نوٹ) اپنے گھروں میں امراء غور کریں کہ وہ اپنے جیسا لباس اپنے جیسا کھانا اپنے خدام کو نہیں دیتے اور اسے اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں مگر عصر حاضرہ کی اس بلند پایہ خاتون کا دل کتنا وسیع اور شفقت و محبت سے خمیر کیا ہوا ہے کہ اپنی خادمات کے ساتھ اپنے جیسا سلوک فرماتی ہیں۔خدام و