سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 408 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 408

408 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کرتی ہوں۔میں ایک پنجابی لڑکی تھی جو ایسے بڑے گھر کے سلیقہ اور تمدن سے نا واقف تھی مگر اس عرصہ میں کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ مجھ پر حضرت اُم المؤمنین نے کوئی سختی کی ہو یا اظہار ناراضگی فرمایا ہو بلکہ مجھ پر ہمیشہ یہی اثر رہا کہ مجھے کو اس طرح حضرت اُم المؤمنین نے رکھا جس طرح مائیں اپنی اولا د کو محبت کے سایہ میں پرورش کرتی ہیں۔(٢) اس پانچ سال کے عرصہ میں میں نے کبھی یہ بھی نہیں دیکھا کہ حضرت ام المؤمنین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کسی بات پر خفا ہوئی ہوں بلکہ وہ ہمیشہ حضرت صاحب کا ادب کرتی رہی ہیں اور مجھ سے ایک مرتبہ حضرت اُم المؤمنین نے فرمایا کہ میں تو اکثر دعائیں کرتی رہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ محمدی بیگم والی پیشگوئی پوری کرائے۔حالانکہ سوکن کے متعلق ایک پنجابی شاعر کہتا ہے۔سوکن ہووے ماں بھی ماراں پیٹ چھرا حضرت ام المؤمنین حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم سے بھی ہمیشہ نیک سلوک کرتی رہیں۔(۳) ایک دفعہ حضرت ام المؤمنین ملیریا بخار سے بیمار ہو گئیں اور بخار کی شدت بہت تھی۔حضرت اماں جان نے اس حالت میں اپنے ہاتھ سے سونے کی آٹھ یا نو چوڑیاں اُتار کر مجھے دیں اور کانوں کی بالیاں بھی اتار کر دیں کہ مجھے تکلیف ہوتی ہے ان کو رکھ دو۔میں نے وہ زیور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صندوق میں رکھ دیا۔جس میں حضرت اقدس لنگر کے خرچ اور دوسری ضروریات کا روپیہ رکھتے تھے اور اس صندوق کو خود حضرت یا حضرت اُم المؤمنین یا ان کے حکم سے یہ خادمہ کھولتی تھی دو چار دن کے بعد بخار تو اتر گیا مگر دو تین ماہ تک حضرت اماں جان نے وہ زیور طلب نہیں کیا اور جب طلب کیا تو یہ خادمہ وہاں موجود نہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سرسری طور پر صندوق میں دیکھا اور فرمایا کہ یہاں تو نہیں۔وہ زیور کم از کم ہزار روپے کا ہوگا۔حضرت ام المؤمنین نے کسی قسم کی گھبراہٹ ظاہر نہیں کی بلکہ میاں شادی خاں مرحوم کی والدہ صاحبہ (جس کو سب لوگ دادی کہتے تھے )