سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 357 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 357

357 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پورا کر گیا بلکہ وصیت بھی ایک چھوڑ دو دفعہ چھپوا دی تھی اور لوگوں پر تبلیغ پوری ہو چکی تھی اور یہ ایک دن آنے والا باقی تھا سو آ گیا مگر وہ دن بھی خدا کا نشان ہو کر آیا اور دو پیشین گوئیوں کو پورا کر گیا۔یعنی ایک تو الہام انتقال کے متعلق الرّحيل ثم الرحيل والا اور مباش، ایمن از بازی کروزگار اور دوسرے وہ پرانا اور بار بار ہونے والا الہام ” داغ ہجرت یعنی ہجرت اور وطن کی جدائیگی میں رحلت ہو گی۔غرض خدا کے بندے مرتے مرتے بھی اپنا خدا کی طرف سے ہونے کا ثبوت دے جاتے ہیں اور ان کی ذات تو ایسی تھی کہ ان کا مرنا جینا سب خدا کی مرضی اور اس کی فرمانبرداری میں تھا۔مگر ہم کو بھی جو پسماندگان رہ گئے ہیں ایسا ہی نمونہ دکھانا چاہئے جس میں خدا تعالیٰ کی مرضی پر سر رکھ دینے اور راضی بقضا ہونے کے خود ہمارے دل گواہی دے دیں۔آپ مجھ سے بڑی ہیں اور سب باتوں میں مجھ سے زیادہ واقف ہیں اور مجھے ایسا لکھنے کی ضرورت کچھ نہیں مگر میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ اس ناگہانی حادثہ کا آپ کے دل پر کیا صدمہ ہوا ہو گا۔دنیا کی زندگی ایک تو خود چند روزہ ہے مگر ان چند روزہ میں بھی اس سرائے کے مسافر اس طرح تعلق پذیر ہو جاتے ہیں کہ جدائی کا دن ایک بڑا سخت دن ہوتا ہے اور جو اس سختی کو اللہ کی مرضی کے مطابق سہہ لیتا ہے وہ آئندہ اس سے بڑھ کر خوشی دیکھے گا۔مجھے خود بے حد رنج ہے کہ میں ایسی دور ایسے ایسے وقت پر پڑا ہوا ہوں۔علاوہ ازیں یہ کہ دریا کی طغیانی کے سبب راستے بہت مشکل اور قریباً مسدود ہیں۔آپ کی بھاوج بھی آنے کو تیار بیٹھی ہیں۔عرضی رخصت کی گئی ہوئی ہے۔اگر منظور ہوئی تو حاضر خدمت ہوں گا۔ایک وہی ذات سب کا آسرا ہے۔اسی سے ہر وقت دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہر مصیبت پر ثابت قدم رکھے اور اعلیٰ درجہ کا نیک نمونہ آئندہ نسلوں کے لئے بنائے اور ہماری زندگی اور موت اسی ایمان پر ہو اور جس کی جدائی میں آج یہ دل کو تپش سی لگی ہوئی ہے۔اس کے ساتھ اور اس کے قدموں میں ہمارا حشر ہو اور ہمیشہ اس کے اصحاب اور متعلقین میں داخل رہیں۔خدا کے ہزار ہزار درود اور سلام تجھ پر ہوں اے غلام احمد کی روح اور بڑی بڑی برکتیں اور مراتب اور درجات اللہ تعالیٰ تجھے دیوے بدلے اس رحمت اور شفقت کے جو تو نے امت محمد ی سے کی اور جو تعلیم تو نے ہم کو دی۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكُ وَسَلَّمُ اسمعیل محمد ا از روجهان