سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 293
293 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اماں جان نے بعد جواب سلام و پرسش احوال پہلا سوال برقعے کا کیا۔میں نے حال سنایا تو آپ نے حکم دیا۔ہمارا وہ برقعہ لاؤ۔برقعہ ہلکے زرد رنگ کا تھا اور مصری طرز کا۔جس کے دو حصے تھے۔ایک کوٹ کی طرح اور ایک سر پر چادر کی طرح۔فرمایا۔اس کو پہن کر دیکھو۔میں کھڑی ہوگئی اور پہن کر بے ساختہ میرے منہ سے نکلا۔اماں جان! اب تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔آپ ہنس پڑیں اور فر مایا اس کو پہن کر قادیان میں آنا جانا کیا کرو۔واپسی پر جب میں حاضر ہوئی تو برقعہ واپس دینے کو میں نے پوچھا فرمایا۔تمہاری طرف تو استعمال نہیں ہوتا تم لے کر کیا کرو گی۔میں نے عرض کیا کہ اب جب کہ آپ نے عنایت کیا ہے تو ضرور استعمال کروں گی۔اور اس عطاء کے بعد میں اس کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں۔مسکرا کر فرمایا۔اچھالے جاؤ۔غالبا یہ پہلا ہی برقعہ ہے جو صرف اور صرف مجھے حاصل ہوا۔مکان کیلئے زمین (۱) محترمہ استانی سكينة النساء بیم لکھتی ہیں کہ : جب عزیزہ محترمہ صاحبزادی امتہ الحفیظ صاحبہ ۵ - ۶ سال کی ہوئیں تو اماں جان نے فرمایا کہ امتہ الحفیظ کو پڑھاؤ۔سواس عاجزہ نے صاحبزادی صاحبہ کو اردو لکھنا، پڑھنا سکھانا شروع کیا۔اس اثناء میں اماں جان نے ایسی ایسی مرحمتیں عطا فرما ئیں کہ مجھے کسی قسم کا فکر و اندیشہ اپنی ضروریات زندگی کا نہ تھا اور جب محترمہ صاحبزادی صاحبہ کی شادی ہوئی تو اپنی شفقت خاص سے اپنے قدموں میں زمین عطا کی کہ اس پر مکان بنالو۔جہاں یہ واقعہ ایک طرف علمی قدردانی کا ایک ثبوت پیش کرتا ہے۔وہاں آپ کی فیاضی طبع کا بھی۔(۲) ایک دفعہ ایک ملتان کی فقیر نی کمبل اوڑھے، گلے میں لمبی تسبیح ڈالے گھر میں آگئی اور لگی اپنی غیر معمولی کرامات کی بڑیں مارنے۔ہم سب عورتیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ کر بیٹھی تھیں کہ وہ باہر شہ نشین پر بیٹھ گئی۔عورتیں اس کو حیرت، تعجب اور تماشے کے طور پر دیکھ رہی تھیں اور وہ منتظر تھی کہ میں ابھی ایک دو عورتوں کا ہاتھ دیکھ کر قسمت کا حال بتاؤں گی۔اتنے میں اماں جان نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلیں اور اس کی مٹھی میں ایک روپیہ دے دیا۔اماں جان تو اندر جا کر قرآن کریم پڑھنے بیٹھ گئیں اور وہ روپیہ لے کر یوں بھاگی کہ مڑکر بھی نہ دیکھا۔ا