سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 228 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 228

خبر لیں۔“ 228 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس بداخلاقی کا پتہ دیتا ہے۔جو بڑے بڑے گھروں میں اور تعلیم یافتہ لوگوں کے گھروں میں رائج تھی کہ وہ محض کھانے کے اہتمام میں نقص آنے کی وجہ سے کیا صورت پیدا کر دیتے تھے اور حضرت کا یہ فرمانا کہ: ” ہمارے دوستوں کو تو ایسے اخلاق سے پر ہیز کرنا چاہئے۔“ اس مقام بلند کا پتہ دیتا ہے جو چشم پوشی اور لطف و کرم کا پہلو لئے ہوئے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اُم المؤمنین پر ناراض ہونا جانتے ہی نہ تھے۔وو حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت ام المؤمنین کو شعائر اللہ میں سے سمجھتے تھے حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے مجھے جو مضمون لکھ کر بھیجا اس میں ایک روایت لکھی ہے کہ : حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندرونِ خانہ جس دالان میں عموماً سکونت رکھتے تھے۔جس کی ایک کھڑکی کو چہ بندی کی طرف کھلتی ہے اور جس میں سے ہو کر بیت الدعا کو جاتے ہیں۔اس کمرے کی لمبائی کے برابر اس کے آگے جنوبی جانب ایک فراخ صحن ہوا کرتا تھا۔گرمی کی راتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے اہل و عیال سب اس صحن میں سویا کرتے تھے۔لیکن برسات میں یہ دقت ہوتی تھی کہ اگر رات کو بارش آجائے تو چار پائیاں یا تو دالان کے اندر لے جانی پڑتی تھیں یا نیچے کے کمروں میں۔اس واسطے حضرت اُم المؤمنین نے یہ تجویز کی کہ اس صحن کے ایک حصہ پر چھت ڈال دی جائے تا کہ برسات کے واسطے چار پائیاں اس کے اندر کی جاسکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس تبدیلی کے واسطے حکم صادر فرما دیا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کو جب اس تبدیلی کا حال معلوم ہوا تو وہ اس تجویز کی مخالفت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت مولوی صاحب نے عرض کی کہ ایسا کرنے سے صحن تنگ ہو جائے گا ، ہوا نہ آئے گی صحن کی خوبصورتی جاتی رہے گی وغیرہ وغیرہ۔دیگر احباب نے بھی مولوی صاحب کی بات کی تائید کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی باتوں کا جواب دیا۔مگر آخری بات جو حضوڑ نے فرمائی اور جس پر سب خاموش ہوئے وہ یہ تھی :