سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 221
221 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حسب ذیل نوٹ لکھا ہے : صلى الله برادران ! یہ ایمان تو میں مسلمانوں کے مردوں میں بھی نہیں دیکھتا کیا ہی مبارک ہے وہ مرد اور مبارک ہے وہ عورت ، جن کا تعلق باہم ایسا سچا اور مصفا ہے اور کیا بہشت کا نمونہ وہ گھر ہے جس کا ایسا مالک اور ایسے اہلِ بیت ہیں۔میرا اعتقاد ہے کہ شوہر کے نیک و بد اور اس کے مکار اور فریبی یا راستباز اور متقی ہونے سے عورت خوب آگاہ ہوتی ہے۔حقیقت میں ایسے خلا ملا کے رفیق سے کون سی بات مخفی رہ سکتی ہے۔میں ہمیشہ سے رسول کریم ﷺ کی نبوت کی بڑی محکم دلیل سمجھا اور مانا کرتا ہوں۔آپ کے ہم عمر اور محرم راز دوستوں اور ازواج مطہرات کے آپ پر صدق دل سے ایمان لانے اور اس پر آپ کی زندگی میں اور موت کے بعد پورے ثبات اور وفاداری سے قائم رہنے کو صحابہ کو ایسی شامہ اور کامل زیر کی بخشی گئی تھی کہ وہ اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جو آنا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ کہتا اور اس محمد عے میں جوانی رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا کہتا صاف تمیز کرتے۔وہ بے خش اخوان الصفاء اور آپ کی بیبیاں جیسے اس محمد سے جو بشر محض ہے۔ایک وقت انبساط اور بے تکلفی سے گفتگو کرتے اور کبھی کبھی معمولی کاروبار کے معاملات میں پس و پیش اور ر د و قدح بھی کرتے ہیں اور ایک وقت ایسے اختلاط اور موانست کی باتیں کر رہی ہیں کہ کوئی حجاب حشمت اور پردہ تکلف درمیان نہیں وہی دوسرے وقت محمد رسول اللہ علیہ کے مقابل یوں سرنگوں اور متادب بیٹھے ہیں۔گویا لٹھے ہیں جن پر پرندے بھی بیباکی سے گھونسلا بنا لیتے ہیں اور تقدم اور رفع صوت کو آپ کے حضور میں حبط اعمال کا موجب جانتے ہیں اور ایسے مطیع و منقاد ہیں کہ اپنا ارادہ اور اپنا علم اور اپنی رسم اور اپنی ہوا امر رسول کے مقابل یوں ترک کر دیتے ہیں۔کہ گویا وہ بے عقل اور بے ارادہ کٹھ پتلیاں ہیں۔ایسی مخلصانہ اطاعت اور خودی اور خود رائی کی کینچلی سے صاف نکل آنا ممکن نہیں۔جب تک دلوں کو کسی کے بچے بے ریا منجانب اللہ زندگی کا زندہ یقین پیدا نہ ہو جائے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں حضرت اقدس کو آپ کی بی بی صاحبہ صدق دل سے مسیح موعود مانتی ہیں اور آپ کی تبشیرات سے خوش ہوتی اور انذارات سے ڈرتی ہیں۔غرض اس