سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 215 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 215

215 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جو یکتائے زمانہ ہو رحیمی اور کریمی میں جہاں بھر میں بدل نہ مل سکے جس کا حلیمی میں ہو دل معمور جس کا درد جذب غمگساری سے کہ اُس کو کھیلنا ہے دنیا بھر کی بیقراری سے ہمارے دین پر جو جان تک دینا روا جانے برے کا جو بھلا چاہے بُرے کو جو بھلا جانے زمانے کے مصائب کو دعا و صبر سے جھیلے فلک کی گردشوں کی یورشوں سے شکر سے کھیلے ہم اس کو اپنی شفقت سے بھرا ساغر پلائیں گے ہم اس کو اس زمانے کیلئے رحمت بنا ئیں گے خدیجہ کے مقدس نام سے اس کو ضیاء دیں گے اُسے اِس دور کے سب مومنوں کی ماں بنادیں گے فرشتے سن کے اس ارشاد کی تعمیل کو دوڑے جھپک میں آنکھ کی دنیا سے خوش اور شادماں لوٹے سروں کو خم کیا اور التجا کی ! ملجا و ماویٰ! ترے لطف و کرم سے مل گیا ہے وہ در یکتا ! ہے جس کے حال پر تیرے کرم کی بارشِ پہیم وہ تیری بہتریں مخلوق ہے نصرت جہاں بیگم خدا کو یہ چناؤ بھی فرشتوں کا پسند آیا بنا کر پھر جہاں میں اس کو ائم المؤمنیں بھیجا خدا اس ماں کو ہم سب سے زیادہ زندگی بخشے جہاں جس سے مزین ہے اسے وہ ہر خوشی بخشے کہ اس کے بطن سے محمود سا گوہر ہوا پیدا مرا ہادی، مرا رهبر، مرا آقا، مرا پیارا اُن پرانی مستورات میں سے جنھوں نے حضرت اُم المؤمنین کو دلہن بنے ہوئے دیکھا اب کوئی موجود نہیں۔البتہ میرے محترم بھائی مولوی جلال الدین شمس صاحب کی پھوپھی جو مائی کا کو صاحبہ کے نام سے مشہور ہیں اور جو حضرت ام المؤمنین کی خادمہ ہیں اور ایک عشق وشوق سے خدمت کرتی ہیں نے مجھے سنایا کہ جب حضرت اُم المؤمنین نئی نئی بیاہی ہوئی آئیں۔یعنی ۱۸۸۳ کے نومبر یا دسمبر کے ابتدائی دنوں میں ہم بھی ایک دفعہ قادیان آئی ہوئی تھیں۔تو ہم نے سنا کہ میرزا صاحب دو وہٹی بیاہ کر لائے ہیں۔اس لئے ہم دیکھنے کے لئے چلی گئیں۔حضرت ائم المؤمنین ۱۸، ۱۹ سال کی لڑکی تھیں۔بالکل پہلی دہلی اور نحیف سی تھیں۔سفید کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔پنجاب کے رواج کے بالکل خلاف ، رنگین یا سرخ جوڑا نہ تھا۔اس وقت کھلے پانچے کا غرارہ پہنے ہوئے تھیں۔حضرت ام المؤمنین ہم کو دیکھ کر کمرے سے باہر آ گئیں اور ہم کو جب ایک ڈبلی ۱۸۸۴ء