سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 201
201 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ انبیاء سے قرب اور تعلق کی وجہ سے ان کو دیا جاتا ہے کیونکہ جب خاوند ایک عزت اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے تو ساتھ ہی اس کے بیوی بچے بھی عزت اور احترام کے لحاظ سے اس مرتبہ کو حاصل کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتُهُمْ ذُرِّيَّتُهُمُ بِإِيمَانِ - الْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ - پس جس روز سے ایک شخص بادشاہ ہو جاتا ہے۔اس روز سے اس کی بیوی بھی ملکہ ہو جاتی ہے۔کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ وہ ملکہ کیوں ہوگئی۔اس مسئلہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے شیعوں نے ٹھو کر کھائی ہے۔ایک طرف تو اتنی افراط سے کام لیا کہ اولاد کو نبوت میں شریک سمجھ لیا اور دوسری طرف اتنی تفریط کی کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج کی کچھ شان ہی نہیں سمجھی۔انبیاء کی عظمت ایسی بلند ہوتی ہے جیسا کہ زمین کے لوگ ستاروں کو دیکھیں۔مگر تعلق کی وجہ سے اور ان کے غم اور خوشی میں شریک ہونے کے باعث قُرب کے لحاظ سے ان کے بیوی بچے بھی بلند کئے جاتے ہیں۔ان کے اس حق کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔پس نسبتی طور پر تو ہو سکتا ہے کہ کوئی عورت کسی نسبت کے لحاظ سے ماں کہلائے جیسا کہ خلیفہ ایک رنگ میں روحانی تربیت، محبت اور ہمدردی کے باعث ایک باپ ہوتا ہے اور اس کی بیویاں اس کی وجہ سے مائیں کہلا سکتی ہیں مگر اُم المؤمنین کے نام کی صرف نبیوں کی بیویاں مستحق ہیں کیونکہ ان پر وہی احکام جاری ہوتے ہیں جو ماؤں کے متعلق ہیں۔نبی کی وفات کے بعد نبی کی بیوی سے نکاح اسی طرح حرام ہوتا ہے۔جس طرح کہ سگی ماں سے۔لیکن استاد یا خلیفہ کی بیوی سے نکاح جائز ہے اور خلفاء کی بیویوں کا خلفاء کی وفات کے بعد نکاح کرنا ثابت ہے۔” پس اُم المؤمنین کی اصطلاح انبیاء کی بیویوں کے ساتھ ہی تعلق رکھتی ہے۔ہاں استاد کی بیوی کو خلیفہ کی بیوی کو والدہ کہہ سکتے ہیں مگر اُم المؤمنین نہیں کہہ سکتے۔اس لئے کسی اور کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کرنا شریعت کے خلاف ہے۔اس ساری بحث سے میری غرض حضرت اُم المؤمنین کے صحیح مقام کو پیش کرنا ہے۔حضرت امیر المومنین