سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 167
167 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سنایا۔انہوں نے فرمایا کہ ایک زمانہ میں میں دکان کیا کرتا تھا۔جس میں ناشتہ وغیرہ کیک، پیسٹری سوڈا برف دودھ وغیرہ ہوا کرتا تھا۔کبھی کبھی حضرت میر صاحب میری دکان میں تشریف لایا کرتے اور جس چیز کی خواہش کرتے وہ پیش کر دی جاتی۔بھائی جی کا مذہب تو دراصل مذہب عشق تھا۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ سچا عشق تھا۔اس عشق کی وجہ سے خاندان مسیح موعود کے ہر فرد سے عشق تھا اور ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ وہ بعض اوقات خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے چھوٹے چھوٹے نونہالوں کے ہاتھوں کو بوسہ دے دیا کرتے ہیں کیونکہ ان کو یہ اس درخت کے پھول اور پھل نظر آتے ہیں جو ہمیشہ ان کی محبت کا نقطہ مرکز یہ رہا۔الغرض اسی محبت کی وجہ سے ان کو حضرت میر صاحب کا بڑا ادب اور پاس تھا اور محبت تھی۔وہ خوشی سے لبریز ہو جایا کرتے تھے۔جب کبھی حضرت میر صاحب دوکان میں آتے اور اس خوشی میں ہر اچھی سے اچھی چیز اٹھا کر آگے رکھتے چلے جاتے۔حضرت میر صاحب خود کھاتے اور کبھی اپنے دوستوں کو بھی کھلاتے اور کبھی کبھی موج میں آ کر فر ما دیا کرتے کہ: ”میاں عبدالرحمن ! ہم اپنا حق سمجھ کر کھاتے ہیں اور یہ اس لئے کہ ہمارا اور آپ کا تعلق بڑھے۔“ بھائی جی فرماتے تھے کہ اس سے یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت میر صاحب مفت کھاتے تھے۔بیشک وہ اس وقت عام خریداروں کی طرح قیمت ادا نہ کرتے تھے۔مگر جب تک وہ دگنی تگنی خدمت دوسرے رنگ میں نہیں کر لیتے تھے وہ مطمئن نہ ہوتے تھے۔بھائی جی کے دل میں ایک سوال ہمیشہ گدگدی کیا کرتا تھا۔وہ موقع کی تلاش میں تھے ایک دن دکان میں تنہا ہی تھے۔حضرت میر صاحب تشریف لے آئے۔ان کی طبیعت اس وقت بہت خوش تھی۔بھائی جی جو موقع کی تلاش میں تھے نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر سوال کر دیا۔حضرت! یہ مقام جو آپ کو حاصل ہوا اس میں کیا راز ہے۔وہ کونسی بات تھی جو آپ کو اس جگہ پر لے آئی ؟ حضرت میر صاحب کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔رقت ان کے گلے میں گلو گیر ہوگئی مگر اس بھرائی آواز میں فرمایا: ” میرے ہاں جب یہ بلند ا قبال لڑکی پیدا ہوئی۔اس وقت میرا دل مرغ مذبوح کی طرح تڑپا اور میں پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الہی پر گر گیا میں نے اُس وقت بہت درد اور سوز