سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 162
162 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہمراہی کو نہ مجھ کو کوئی ملا جو جوانوں میں مجھ کو لے جاتا لوگ کہتے تھے خوب لیکچر تھا خوب بولا مرا سخنور تھا بھائیوں کو خوشی ہوئی سن کر خواجہ لاتے تھے بات کو چن کر خیر ނ وعظ تمام ہوا خواجہ صاحب کا خوب نام ہوا یہ چھپی ہوئی شہادت موجود ہے۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب اچھی بات کو اچھا کہتے تھے اور بُری کو بُرا۔اس طرح جب انہوں نے ان لوگوں کی نیتوں میں فتوران کے اخلاص میں کمی۔سلسلہ کے اموال کو اپنے ہاتھ میں لینے کا شوق ، لوگوں پر حکومت کرنے کا جذبہ محسوس کیا تو ان کو ان لوگوں سے نفرت ہو گئی اور یہ چاہتے تھے کہ کوئی ان کو روکنے والا نہ رہے اور کوئی ان کی حرکات سے سلسلہ کے افراد کو آگاہ اور مطلع نہ کرے۔مگر فدا کاران سلسلہ سے کب ایسی توقع ہو سکتی تھی اور یہی چیز ان کی نگاہ میں کھٹکتی تھی۔(۲) حضرت میر صاحب کی طرف ایک الہام انہوں نے منسوب کیا ہے۔جو ان لوگوں کے خلاف ہمیشہ ایک حجت رہے گا کہ یہ لوگ افتراء علی اللہ سے بھی پر ہیز نہیں کرتے تھے۔حضرت میر صاحب کے گھرانے کو خدا تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود کے لئے انتخاب کرنا اور پھر خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكم الصِّهْرَ وَ النَّسْبَ بذات خود حضرت میر صاحب کی نیکی ، تقویٰ، پاکیزگی ، شرافت ذاتی ، شرافت نسبی کی ایک کھلی کھلی دلیل ہے۔خدا کی اس شہادت کے بعد یہ مصنوعی الہام ان لوگوں کے منہ پر ایک تھپڑ ہے جو ہر نیک اور صاحب بصیرت کی اس طرح راہنمائی کرے گا کہ ان لوگوں کے قلوب کی حالت کس قدر خراب ہو چکی تھی کہ وہ لوگوں کو حق بات سے ہٹانے کے لئے افتراء تک سے پر ہیز نہ کرتے تھے۔اگر ان سے کوئی دریافت کرے کہ تم بتلاؤ کہ یہ الہام کہاں درج ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت میر صاحب کو یہ الہام ہوا تھا ؟ سوال نمبر۳ کی بھی ایسی ہی نوعیت ہے یہ بھی ایک دعوی بلا دلیل ہے۔