سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 127
127 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔“ کے قارئین کرام سے میں توقع رکھتا ہوں کہ وہ ان پیشگوئیوں کو اپنے ذہن میں رکھیں گے۔جو حضرت ام المؤمنین کی ذات کے متعلق وقتاً فوقتاً درج کی جاری ہیں۔ان پیشگوئیوں پر بحث اور ان سے استدلال تو اپنی جگہ پر ہوگا یہاں صرف اس قدر بتلانا مطلوب تھا کہ آپ کے نام میں حضرت مسیح موعود نے ایک پیشگوئی کومستور پایا۔اور وہ پیشگوئی یہ تھی کہ جو خاندان نصرت جہان بیگم کے ذریعے چلے گا اس خاندان کے ذریعے تمام جہان کی مدد کی جائے گی۔پس اس شان اور عظمت کی خاتون حضرت میر ناصر نواب صاحب کے گھر میں ۱۸۶۵ء میں پیدا ہوئی اور اس فضل کے لئے خدا تعالیٰ نے اس انسان کو پنا جو آنکھ کھلنے کے ساتھ ہی یتیم ہو گیا تھا اور بچپن ہی میں صد ہا قسم کی تکلیفوں کو عبور کر چکا تھا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی آزمائش قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی آزمائش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ اس آیت شریفہ کے ماتحت والد کی وفات سے خوف، غدر کے وجود سے جوع اور نقص من الاموال کی آزمائشوں میں سے آپ کو گذرنا پڑا۔مگر اب ایک اور آخری آزمائش بھی آپ کے سامنے کھڑی تھی اور وہ ثمرات کا نقصان تھا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ہاں سیدہ نصرت جہان بیگم کے بعد پانچ بچے پیدا ہوئے اور سب ہی مشیت الہی نے اپنے پاس بلا لئے مگر پانچ بچوں کا داغ جدائی کھا کر بھی ثابت قدم ناصر نواب اپنے رب کا عبد شکور رہا اور اس کے اخلاص اور ثبات میں کوئی کمی نہ آئی۔تب خدا تعالیٰ نے ۱۸۸۱ء میں اپنے فضل اور رحم کے ساتھ ایک زندہ رہنے والا اور نافع الناس بچہ عطا فرمایا جس کا نام محمد اسماعیل رکھا گیا جو بعد میں اپنے وقت کا ایک خاص آدمی ثابت ہوا اور ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر کے ترقی کرتے ہوئے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن کہلایا۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کا ذکر ہم الگ کسی جگہ تفصیل سے کریں گے اس لئے صرف اسی قدر پر اکتفاء کرتے ہیں۔