سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 644 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 644

644 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نواب صاحب کے متعلق سب سے پہلا کشف نواب صاحب نے جب بیعت کی اور اخفا کی اجازت چاہی اس کی ایک خاص وجہ تھی۔اس وقت حکمران خاندان کے ساتھ بعض سیاسی حقوق کے متعلق حکومت پنجاب میں مطالبات پیش تھے اور حکومت ابتدا سلسلہ سے بدظن تھی۔محض اس خیال سے کہ ان کے ان ذاتی معاملات پر جو سارے خاندان وابستہ تھے اس سے کوئی مضر اثر نہ پڑے۔یہ چاہا گیا تھا مگر حضرت کے اس خط کے بعد ان میں ایک خارق عادت قوت پیدا ہوگئی اور کسی مرحلہ پر ان کو اخفا کی ضرورت پیش نہ آئی بلکہ سلسلہ کے لئے حکام سے انہوں نے بڑی بڑی بحثیں کیں۔مجھے یاد ہے کہ لاہور کے ایک کمشنر اینڈرسن تھے ان سے نواب صاحب کی ملاقات ہوئی اور اس نے بعض ظنوں کا ذکر کیا تو نواب صاحب نے نہایت جرات اور قوت کے ساتھ اس کو جواب دیا اور بالآخر اس گفتگو میں اس سے منوالیا کہ حکومت کو غلطی لگی ہے اور یہ نیچے کے افسروں کی رپورٹوں کا نتیجہ ہے۔نواب صاحب ان ایام میں حضرت اقدس سے خاص طور پر دعائیں کرا رہے تھے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے مرزا خدا بخش صاحب کو خصوصیت کے ساتھ ان کے تمام اخراجات کثیر برداشت کر کے قادیان میں رکھا ہوا تھا تا کہ وہ یاد دہانی کراتے رہیں۔اسی سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کشف دیکھا: در مشفقی عزیزی مجی نواب صاحب سردار محمد علی خاں صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ آج کی ڈاک میں مجھ کو ملا۔الحمد لله والمنة کہ خدائے تعالیٰ نے آپ کو صحت بخشی۔اللہ جل شانہ آپ کو خوش رکھے اور عمر اور راحت اور مقاصد دلی میں برکت اور کامیابی بخشے۔اگر چہ حسب تحریر مرز ا خدا بخش صاحب آپ کے مقاصد میں سخت پیچیدگی ہے مگر ایک دعا کے وقت کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے پاس موجود ہیں اور ایک دفعہ گردن اونچی ہوگئی اور جیسے اقبال اور عزت کے بڑھنے سے انسان اپنی گردن کو خوشی کے ساتھ ابھارتا ہے۔ویسی ہی صورت پیدا ہوئی میں حیران ہوں کہ یہ بشارت کسی وقت اور کس قسم کے عروج سے متعلق ہے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ظہور کا زمانہ کیا ہے۔مگر میں کہہ سکتا ہوں کہ کسی وقت میں کسی قسم کا